پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر، جو اب کچھ ایسے نئے بھی نہیں ر ہے، میڈیا کی چکاچوند سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ ٹھہری ہوئی طبیعت کے مالک، ٹھوس کام کرنے والے شخص ہیں جو نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی استواری میں مصروف ہیں بلکہ ان تعلقات کی گہرائی اور وسعت کے نئے امکانات بھی تلاش کررہے ہیں۔ کوئی چار ماہ قبل، عزت مآب عبدالعزیز الغدیر سے میری پہلی مفصل ملاقات ہوئی تو انہوں نے عجب سرشار لہجے میں مجھے بتایا۔
”میرے والد کاروبار کے سلسلے میں پاکستان آتے جاتے رہتے تھے۔ مجھ سے کہا کرتے تھے۔ ”جب بھی پاکستان کے لوگوں کا ذکر آئے تو ”محض پاکستان کے لوگ“ نہ کہا کرو۔ کہا کرو ”پاکستان کے عظیم لوگ “ (The great people of Pakistan)۔“ وہ بتایا کرتے تھے کہ پاکستان کے عظیم لوگ اپنے دین سے بے پناہ محبت کرتے اور امت مسلمہ کا گہرا درد رکھتے ہیں“۔ عزت مآب سفیر کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی جو رسمی سفارتی تقاضوں سے نہیں، محبت اور اپنائیت کے بے کراں جذبوں سے پھوٹتی ہے۔ یہ دو دیرینہ دوستوں کی دوستی کے نئے معمار کا جذبہ بے اختیار شوق تھا۔
جناب عبدالعزیز الغدیر نے دو تین دن قبل رات کے کھانے کی دعوت دی ۔ کہنے لگے“۔ آپ کو سعودی عرب سے آئے کچھ بہت اچھے لوگوں سے ملوانا ہے“۔ یہ واقعی بہت اچھے لوگ تھے۔ سعودی عرب کی میڈیکل یونیورسٹیوں، اسپتالوں، طبی اداروں اور وزارت صحت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کا ایک وفد تھا۔ وزارت صحت کے تحت چلنے والے ایک قومی پروگرام کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر صالح محمد الصالحی کی سربراہی میں پاکستان آنے والے سترہ رکنی وفد کا خصوصی مشن، پاکستان سے طبی شعبے کے ماہرین، ڈاکٹر، سرجن اور اسپیشلسٹ بھرتی کرنا تھا۔ یہ پیش رفت سفیر محترم عبدالعزیز الغدیر کی خصوصی کاوشوں سے ممکن ہوئی۔ پاکستان میں اپنے منصب کا چارج سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے اسے اپنی اہم ترجیح بنایا کہ سعودی عرب میں پاکستانی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے لئے زیادہ سے زیادہ گنجائش پیدا کی جائے۔ تیزی کے ساتھ معاملات طے پائے۔ سلیکشن کے آخری مرحلے کے طور پر سعودی ماہرین طب کی یہ بھاری بھرکم ٹیم یہاں پہنچی۔
ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر صالح محمد الصالحی نے بتایا کہ طب کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے تقریباً دو ہزار ڈاکٹرز کے انٹرویوز کئے۔ یہ ٹیسٹ اور انٹرویوز خالص سائنٹیفک طریقہ کار کے ذریعے انتہائی شفاف انداز میں ہوئے۔ ایک ہزار پچاس ڈاکٹرز حتمی طور پر منتخب کرلئے گئے۔ ان میں سے تقریباً نصف خواتین ہیں۔ ان کی مہارتوں کے مطابق سعودی عرب کے مختلف اداروں میں ان کی تعیناتی بھی کردی گئی ہے۔ منتخب افراد کی طرف سے تمام دستاویزات مکمل ہوجانے کی صورت میں وہ اگلے دو ماہ کے اندر اندر سعودی عرب پہنچ جائیں گے۔ عزت مآب سفیر نے خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں کہ منتخب ڈاکٹرز کو ویزا کے حصول میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہئے۔ تقریباً تین سو مزید ڈاکٹرز کا انتخاب بھی کرلیا گیا ہے لیکن فی الحال وہ ”فرد انتظار“ (Waiting list) میں رہیں گے۔ ان کی تقرری کی منظوری اور ویزا کے حصول کے بعد وہ بھی امکانی طور پر اسی سال کے دوران سعودی عرب پہنچ جائیں گے۔ ڈاکٹر صالح نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بڑی تعداد میں پاکستانی نرسوں کی بھرتی کا پروگرام بھی زیر ترتیب ہے۔
سعودی عرب کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا خاطر خواہ حصہ صحت کے شعبے پر خرچ کرتے ہیں۔ مملکت میں تین سو بڑے اسپتال اور طول و عرض میں پھیلے ہوئے دو ہزار سے زائد میڈیکل سینٹرز ہیں۔ مقامی عوام کے لئے ہر سطح کی طبی امداد مفت ہے۔ تیس فیصد ڈاکٹرز اور طبی عملہ مقامی ہے جبکہ پاکستانی میڈیکل اسٹاف کی تعداد پچیس فیصد سے زائد ہے۔ باقی پنتالیس فیصد دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صالح کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈاکٹرز نہ صرف پیشہ ورانہ استعداد کے حوالے سے انتہائی اعلیٰ معیار رکھتے ہیں، بلکہ وہ بے حد محنتی اور کام کی لگن رکھنے والے بھی ہیں۔ مقامی لوگ پاکستانی ڈاکٹرز کو بے حد پسند کرتے ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ شدید مرض میں مبتلا مریض کو بے اختیار اللہ یاد آتا ہے اور اسے ایک مسلم ڈاکٹر کو اپنے سرہانے دیکھ کر روحانی آسودگی ملتی ہے۔ ہمارے لئے یہ بھی نہایت اہم ہے کہ دوران زچگی مسلم خواتین ڈاکٹرز اور مسلم نرسیں دستیاب ہوں۔
ڈاکٹر صالحی اور ان کے وفد نے لاہور کا دورہ اس دن کیا جس دن پورا شہر دھماکوں سے لرز رہا تھا۔ سیکورٹی اداروں کی تلقین کے باوجودانہوں نے ٹیسٹ اور انٹرویوز کا طے شدہ پروگرام مکمل کیا۔ میرے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں میڈیکل تعلیم کے دس ادارے عالمی معیار کے ڈاکٹرز پیدا کررہے ہیں لیکن پاکستان کے میڈیکل کالجوں میں بھی سعودی طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
عزت مآب عبدالعزیز الغدیر مسرور تھے کہ ان کا ایک مشن تکمیل پا رہا تھا اور میرے ذہن میں یہ سوال کلبلا رہا تھا کہ سعودی عرب سے ہماری دوستی کیا کسی وقتی عامل یا حالات کے نشیب و فراز سے متاثر ہوسکتی ہے؟ جن ممالک کے باہمی تعلقات ، معاہدوں، مفاہمت کی یادداشتوں، تجارت کے حجم اور لچھے دار بیانات سے بے نیاز ہوں اور ان کی جڑیں عوام کے دلوں میں ہوں ان کے بارے میں شاید کسی بدگمانی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے حالیہ دورہٴ بھارت کو بھی اسی زاویے سے دیکھا جانا چاہئے اور اس یقین کو متزلزل نہیں ہونے دینا چاہئے کہ ہمارے تعلقات کے قلعے میں کوئی دراڑ نہیں آسکتی۔ آزاد و خود مختار ممالک باہمی رابطے رکھ سکتے ہیں۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی کی نوعیت بھی ایسی ہی ہے لیکن اعلیٰ ترین چینی قائدین بھارت کے دورے پہ آتے رہتے ہیں۔ بھارتی قائدین بھی چین جاتے رہتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں کبھی اس واہمے نے جگہ نہیں پائی کہ ایسے دورے ہمارے باہمی تعلقات میں کوئی رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ من موہن سنگھ کے دورے سے بھی منفی تاثر کشید نہیں کیا جانا چاہئے۔ اعتماد ہی ہمارا صل اثاثہ ہے۔ اس پہ کسی طور آنچ نہیں آنی چاہئے۔ سعودی عرب نے مشکل کی ہر گھڑی میں ہماری بھرپور مدد کی ہے اور وہ عالمی برادری میں ہمیشہ ہمارا توانا ساتھی رہا ہے۔
اچھا ہوا کہ سعودی وزیرخارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سعودی عرب آنے کی دعوت دے دی تاکہ انہیں باضابطہ طور پر بھارتی وزیراعظم کے دورے کے محرکات اور زیر بحث آنے والے معاملات سے آگاہ کیا جاسکے۔ یہ پیش رفت بذات خود اس امر کی گواہ ہے کہ سعودی عرب اپنے دیرینہ دوست اور بھائی کو پوری طرح دائرہٴ اعتماد میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ کسی طرح کے شکوک شبہات کی گنجائش نہ رہے۔
عزت مآب عبدالعزیز الغدیر، دھیمے انداز کی پختہ کار مگر بامعنی اور نتیجہ خیز سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ ہنر نتائج دکھا رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے خلیج سمیت، بیشتر اسلامی ممالک میں پاکستانیوں کے لئے تنگ دلی پائی جاتی ہے ۔ پاکستانیوں کے لئے ویزا سہل نہیں رہا۔ ان حالات میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی ڈاکٹرز کی سعودی عرب تعیناتی،ایک ہزار پاکستانی خاندانوں کے لئے خوشحالی اور آسودگی کا پیغام ہے۔
”محض پاکستان کے لوگ نہیں، “ پاکستان کے عظیم لوگ ”کہا کرو“ اپنے والد کے یہ الفاظ عزت مآب عبدالعزیز الغدیر کے دل و دماغ میں گونجتے رہتے ہیں۔ اور یہ گونج دو برادر ممالک کے دیرینہ رشتوں میں نئی استواری اور پائیداری کی راہیں کھول رہی ہے۔