حال ہی میں جکارتہ میں ہونے والی کانفرنس میں شریک تھے کہ اس دوران انڈونیشیا کے مطلوب ترین دہشت گردوں میں سے ایک دلماتن اپنے 2ساتھیوں کے ساتھ ڈرامائی اندازمیں مارا گیا۔اس کی ہلاکت صدر سوسیلو بام بینگ یدھویونو کی حکومت کی مقامی دہشت گردوں سے لڑائی میں بڑی کامیابی کے طور پر دیکھی گئی۔
انڈونیشیائی صدر دلماتن کی ہلاکت پر بہت خوش تھے اور انہوں نے اسکی ہلاکت کا اعلان آسٹریلیا کے پارلیمنٹ ہاؤس میں خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا ”الحمد للہ “ (اللہ تیرا شکر ہے)کہہ کر دلماتن کی ہلاکت کو انڈونیشیائی پولیس کیلئے بڑی کامیابی قرار دیا۔ اس سے قبل دو اہم جنگجو نورالدین محمد ٹاپ اور اظہری بن حسین بھی مارے جا چکے تھے۔
پولیس کے پاس موجود دلماتن کی تصاویر انڈونیشیا کے میڈیا پر بھرپور انداز میں شائع کی گئیں اور دکھائی گئیں۔ مونچھوں اور چھوٹی داڑھی والے گنجے دلماتن کی عمر اندازاً 40برس تھی۔اس کے برعکس پاکستان میں حکام بیشتر مواقع پر نامعلوم وجوہات کی بنا پر مارے جانے والے جنگجوؤں کی ہلاکت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں لیکن انڈونیشیائیوں کی جانب سے میڈیا کو دلماتن ،رضوان اور حسن نوئر کے مارے جانے کے شواہد کی فراہمی ایک اچھا اقدام تھا ، ان دو دیگر دہشت گردوں کے بارے میں خیال تھا کہ یہ دلماتن کے محافظ تھے۔پولیس نے دعویٰ کیاکہ دلماتن کا ڈی این اے ٹیسٹ اس کی ماں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے مطابقت رکھتا ہے جبکہ جکارتہ کے مضافات میں ایک انٹرنیٹ کیفے میں پولیس کے نرغے میں گھر جانے والے دلماتن کے خلاف کارروائی میں خوش قسمتی اور پولیس کی کارکردگی کے باعث کوئی شہری نہیں مارا گیا۔
یہ ہلاکتیں جکارتہ میں مشرقی ایشیائی خطے کے تنازعات پر توجہ مرکوز کرنے کے حوالے سے ہونے والے 3روزہ میڈیا سیمیناربعنوان ”جرنلزم ایٹ دا انٹر سیکشن آف پولیٹکس،رلیجن اینڈ کلچر“ کے دوران ہوئیں۔جکارتہ کے گرد و نواح اور انڈونیشیا کے مغربی صوبے آچے سے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر چھاپوں اور ہلاک کئے جانے کی خبریں اس وقت آرہی تھیں ٹھیک اس وقت جب انڈونیشیا کے ملوکو اور جنوبی سلاویسی ،تھائی لینڈ کے مالے اکثریتی آبادی والے 3صوبے فلپائن کے جزیرہ منداناؤ اور افغانستان اور پاکستان کے تنازعات کے حوالے سے گفتگو جاری تھی۔یورپی یونین کے تعاون سے نیوزی لینڈ اور انڈونیشیا کی حکومت نے 16مختلف ممالک سے 57سینئر صحافیوں اور میڈیا ایکسپرٹ کو جمع کیاتاکہ میڈیا کی جانب سے ان تنازعات کی رپورٹنگ کے حوالے سے روشنی ڈالی جا سکے۔
اس موقع پرانڈونیشیائی میڈیا میں دلماتن اور اس کے دو ساتھیوں کی ہلاکت کی خبر سے انتہائی دلچسپ صورتحال پید ا ہوگئی۔ خصوصی طور پر ٹی وی چینلزپولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے جنگجوؤں کی لاشوں اور جائے وقوعہ پر بکھرے خون کی گرافک فوٹیج نشر کرنے میں بازی لے جانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے اور اس تمام وقت میں دہشت گردی کے ماہرین تبصرے کر رہے تھے اور شاید وہ معاملات کو سلجھانے کی بجائے مزید الجھا رہے تھے۔
دہشت گردی کے متعلقہ کیسوں میں دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتاہے ،دلماتن بہت زیادہ خطرناک اور اہم بنتا جارہا تھااور انڈونیشیا میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں اسے مورد الزام ٹھہرایا جارہا تھا۔حقیقتاً اسے 2002ء اکتوبر میں بالی میں ہونے والے بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جا رہا تھاجن میں آسٹریلیا کے کئی باشندوں سمیت مختلف ممالک کے 202سیاح مارے گئے تھے ۔اس سے قبل رضوان اسام الدین عرف ھمبالی کو بالی بم دھماکوں کا ماسٹرمائنڈ قرار دیا گیا تھا جسے 2003ء میں تھائی لینڈ میں گرفتاری کے بعد امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا جوکہ اب گوانتاموبے میں قید ہے۔سی آئی اے نے انڈونیشیائی باشندے ھمبالی کو جنوب مشرقی ایشیاء کو ”اسامہ بن لادن “قرار دیا تھا اور وہ اب اپنی رہائی کیلئے ایک پٹیشن دائر کرنے والا ہے اور امریکی یہ چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہوں نے اسے کم شواہد کی بنا پر بالی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں قید رکھا۔دیگر 3انڈونیشیائی باشندوں امام سمودرا،آمروزئی اور مخلاص کو پہلے گرفتار کیا گیااور بالی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزام میں انہیں سزا دے دی گئی۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ بالی بم دھماکوں کے ملزمان کی تلاش ابھی مکمل نہیں ہوئی اور یہ معاملہ ابھی انڈونیشیا کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔
دلماتن جو کہ جوکو پٹونی کے نام سے بھی جاناجاتاہے، ہمارے خطے افپاک کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس نے مبینہ طور پر افغانستان کے ایک القاعدہ کے کیمپ میں تربیت حاصل کی۔اگر یہ سچ ہے تو اس نے لازمی طور پر پاکستان میں قیام یا سفر ضرور کیا ہو گا،خصوصی طور پر صوبہ سرحد اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقے کیونکہ غیر ملکی جنگجو افغانستان جانے کیلئے یہی راستہ استعمال کرتے ہیں ۔ لازمی طور پر یہاں اس کے دوست بھی ہوں گے کیونکہ یہ یکساں سوچ اور نظریات کی بنا پر تعلقات اور دوستیاں بڑھاتے ہیں ۔ جنوب مشرقی ایشیاء کا القاعدہ سے منسلک جنگجو گروپ جمیعة اسلامیہ سے اس کا تعلق تھا۔ اس لحاظ سے دلماتن کی موت ایک عام واقعہ نہیں بلکہ اس پر جہادی حلقوں میں غم منایا جائے گااور اس کا اثر دنیا میں جاری طویل جنگ پر بھی پڑے گا۔دلماتن نے دیگر خفیہ ایجنٹوں کی طرح خود کو چھپانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا۔ اس نے کئی شناخت بنا رکھی تھیں اس کے کئی نام تھے تاکہ اس کی نشاندہی نہ ہوسکے اور نہ ہی اسے گرفتار کیا جا سکے ۔ اس نے کار سیلز مین سے لیکر لائیو اسٹاک کے بروکر تک کا کام کیا تاکہ اس کی مسلح سرگرمیوں اور جنگجوؤں کی بھرتی کی کارروائیوں پر پردہ پڑا رہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے بم بنانے کی تربیت افغانستان میں حاصل کی اور اسے انڈونیشیا کے آچے اور جاوا اورجنوبی فلپائن میں موجود علیحدگی پسند جنگجوؤں مورو تک پہنچایا۔جیسا کہ ہم پاکستان میں جنگجوؤں کی قیادت کے معاملے پر اختلافات دیکھتے ہیں کہ وہ ایک گروپ سے علیحدہ ہو کر دوسرے گروہ میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ ایسا ہی کچھ دلماتن کے ساتھ ہوا جب وہ اور اس کے ساتھی جمیعة اسلامیہ سے علیحدہ ہو کر زیادہ شدت پسند گروپ تنظیم القودت میں شامل ہو گئے۔
اگر انڈونیشیا انسداد دہشت گردی کے حکام اور ماہرین سے کی بات پر اعتبار کر لیا جائے تو ان کا کہناہے کہ دلماتن فلپائن سے انڈونیشیا میں داخل ہواجہاں وہ ایک سال سے زائد عرصے تک ابو سیاف کی پناہ میں تھا۔یقینی طور پر یہ انڈونیشیائی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی غلطی تھی ،بہرحال وہ دلماتن کا پیچھا کرتے کرتے 9مارچ کو اس تک پہنچ ہی گئے جس کا پتہ انہوں نے آچے میں گرفتار ہونے والے جنگجوؤں سے تفتیش کے دوران لگا لیا تھا۔انڈنیشیا کی دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا قابل تعریف پہلو یہ کہ وہ یہ سب کچھ اپنے ملک اور عوام کے تحفظ کیلئے کررہے ہیں نہ کہ امریکہ کی جانب سے دہشت گردوں کے سروں پر مقرر کئے گئے انعام کو حاصل کرنے کیلئے ۔انڈونیشیا کے پولیس چیف نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کرکے دلماتن کے سر پر لگے انعام کی اہمیت کم کردی کہ ان کے جوانوں نے یہ کارنامہ 10ملین امریکی ڈالر کے حصول کیلئے انجام نہیں دیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ بالکل اس کے برعکس تھا کہ تھائی حکام نے 2003ء میں ھمبالی کی گرفتاری پر 10ملین امریکی ڈالر کا مطالبہ کردیا تھا۔ یہ واضح نہیں کہ انعام کی یہ رقم تھائی حکام کو دی گئی یا نہیں کیونکہ سی آئی اے حکام کی جانب سے ایک اور دعویٰ سامنے آیا تھا۔ انڈونیشی قوم کا عزت نفس کاموقف ہمیں فوجی آمر جنرل پرویزمشرف کے دور کی پاکستانی پالیسی کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی کتاب میں اقرار کیا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کو مطلوب افراد گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر کے خوب انعام کی رقم وصول کی۔اطلاعات ہیں کہ ان کے دور حکومت کے خاتمے کے بعد بھی حکام کی روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت یا گرفتاری پر انعامی رقم کے مطالبے سامنے آتے رہتے ہیں ۔ اس سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکومتی حکام مطلوب افراد کو ملک کے تحفظ سے بڑھ کر ذاتی مالی فوائد کے حصول کیلئے پکڑیا مار رہے ہیں ۔
دورہ انڈونیشیا کے دوران ایک اور اہم بات جو سامنے آئی وہ یہ تھی کہ بنیادی مذہبی تعلیمات میں وہ اسلام کے ساتھ ساتھ سائنس،تاریخ ،انگریزی ،عربی زبان ،کمپیوٹر اور مارشل آرٹس بھی سکھایا جاتاہے ۔جنوبی جکارتہ میں 1974ء میں قائم کیا گیاایک اسلامی بورڈنگ ہاؤس”پیزنٹرن دارنجہ“میں اس وقت 2000 سے زائد لڑکے اور لڑکیاں موجود ہیں جوکہ اپنے مذہب ثقافت اور اسلامی ورثے کے حوالے سے بہت مطمئن اور پراعتماد ہیں۔نجی حیثیت سے چلائے جانے والے اس ماڈل مدرسے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کامسلمانوں کی کسی بڑی تنظیم جیسے محمدیہ یا نہدةالعلماء سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ طالب عملوں اور اساتذہ کے لئے ایک متوازی کورس کے لئے کوشاں ہیں ۔ شاید ہمیں بھی پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دیں اور اچھے مسلمان اور قابل فخر شہری اس ملک کو دے سکیں۔