کیا صدر بارک اوباما کی ملکی معاملات میں مصروفیت نے ان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کیا ہے؟ اپنے عہدے کے ایک سال سے زائد کے عرصے میں قابل فہم طور پر ان کی توجہ ملکی مسائل اور چیلنجز پر مرکوز رہی ہے، تاہم کیا اس کے نتیجے میں امریکی خارجہ پالیسی کی کارکردگی پر کوئی خاطر خواہ نتائج مرتب ہوئے ہیں؟؟ ان کی شخصیت سمیت بعض دیگر عناصر بھی بین الاقوامی معاملات پر ان کے رویوں کا مظہر ہیں۔
انہیں ورثے میں ملی مشکلات کے پیش نظر سب سے پہلے ملکی مسائل سے نمٹنا ہی ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ چنانچہ امریکی معیشت کو پھر سے متحرک کرنا اور ورثے میں ملے بدترین معاشی بحران سے نبرد آزما ہونا بجا طور پر ان کی پالیسیوں کی توجہ کا اولین مرکز ہے۔
ملک میں صحت عامہ کے مسئلے پر اصلاحات ان کی شناخت بن گئی ہے اور صدر اوباما اب اس مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جہاں وہ معاملات کو بنا اور بگاڑ سکتے ہیں۔ کانگریس آئندہ دو ہفتوں میں، ان کے قانونی اقدامات کی تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔ ایسے قومی مسائل جن کے حوالے سے امریکی قوم میں واضح اختلاف رائے پایا جاتا ہے، ان پر فضول اپنی توانائی ضائع کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا جبکہ انہوں نے بجٹ کے خسارے اور ریکارڈ سطح کو چھوتی بیروزگاری جیسے مسائل کے حل پر مناسب دھیان دینے کی کوشش نہیں کی۔ آنے والے دور میں امریکی معیشت کی بحالی اور بیروزگاری میں کمی ہی اوباما کی سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔ عوامی رائے شماری کے مطابق ان دو مسائل کو امریکی اولین چیلنج سمجھتے ہیں بجائے صحت عامہ کے جس کے متعلق اوباما بہت زیادہ پرجوش ہیں۔
تاہم ”پالیسی کے مقصد کے ابتدائی“ اعلان کے بعد بھی وہ اس معاملے پر بے عملی کا شکار ہی رہے۔ مخالف کنزرویٹو کو مسئلے کی وضاحت کی اجازت دینا، دراصل کانگریس کے ذریعے اصلاحات کے لئے ترغیب دینے کی حالیہ کوشش ہے۔ اس سے اوباما کا طرز حکمرانی تشکیل پاتا نظر آتا ہے۔ بڑے بڑے اعلانات ، لاتعداد تقاریر کرنا اور پس و پیش کے بعد طویل مباحثوں میں مصروف ہونا اور پھر منزل مراد تک پہنچنے کی جستجو میں قوت متحرکہ کو وضع کرنا ہے۔
مشاورت کے عمل کو طوالت دینے کے انداز کے سبب ، انہیں ”سیمینار کا لیڈران چیف“ کا لقب مل چکا ہے۔ خارجہ پالیسی کے دائرے میں اوباما کا مسئلہ، افغانستان پر داخلی مباحثہ کو طول دینا اور اس موضوع پر متعدد تجزیئے اس کی ایک کامیاب مثال ہے۔اگر اوباما صحت عامہ میں اصلاحات کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل ہیں تو یہ ان کی ایک اہم کامیابی ہو سکتی ہے۔ پھر بھی اگر اقدامات کمزور ہیں تو ان کی طرز حکمرانی کے حوالے سے، خدشات دور نہیں ہوں گے اور نہ ہی فوری توجہ کا متقاضی ملکی مسئلہ کہ ان کی مصروفیات کو جاری رکھنے کے جواز کو تقویت فراہم کرتا ہے۔اصولاً تو ان تمام مسائل کا تعلق معیشت سے ہے لیکن اس میں بڑھتے ہوئے سیاسی مسائل بھی شامل ہیں۔ میسا چوسٹس میں شدید انتخابی معرکے اور کانگریس کے متعدد ڈیمو کریٹک اراکین کی جانب سے وسط مدتی انتخابات میں عدم دلچسپی کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ حکمران جماعت مسائل سے دوچار ہے۔ ماہ نومبر میں کانگریس کے وسط مدتی انتخاب کے حوالے سے رائے دہندگان کے رویّے میں پائی جانے والی بے چینی کا مطلب کیا ہو گا کہ ملکی سیاسی منظر نامے پر ہی اوباما کی توجہ زیادہ سے زیادہ مرکوز ہونی چاہئے۔
بہرحال ان کی صدارت ابھی نوخیز ہے۔ اوباما کے ملکی مسائل کے حوالے سے ان کی خارجہ پالیسی تین طرح سے متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔
اول جس سے ہر رہنما دوچار ہوتا ہے کہ کئی فوری توجہ کے متقاضی ،بین الاقوامی مسائل میں ترجیحات کا تعین کیسے کرے۔ یورپی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کے قیام کے حوالے سے، امریکی خارجہ پالیسی ، اس وقت متاثر ہوئی جب اوباما نے ماہ مئی میں میڈرڈ میں ہونے والی یو ایس یورپی ممالک کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا ۔جسے یورپی ممالک کی تحقیر تو نہیں لیکن تعلقات میں تنزلی ضرور گردانا گیا حالانکہ ان کی انتظامیہ نیٹو کے اتحادیوں پر افغانستان میں امریکی قوت میں حصہ لینے کے لئے اقدامات کرنے پر زور ڈال رہی تھی۔اوباما کا چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینا ممکن ہے درست ہو کہ وہ اس کی فراست رکھتے ہیں کہ عالمی طاقت کا توازن کہاں منتقل ہو رہا ہے تاہم واشنگٹن کی ترجیحات کی اس فہرست پر اس کے یورپی اتحادی حیران ہیں۔ان کی پالیسی کا ایک اور اہم حصہ جس پر اوباما متوازن توجہ مرکوز نہیں رکھ پائے وہ مشرق وسطیٰ ہے۔ خصوصاً گزشتہ جون میں قاہرہ میں ان کی مسلمانوں کو قریب تر لانے کے لئے کی جانے والی تقریر جس میں انہوں نے کئی وعدے کئے تھے تاہم ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور فلسطین اسرائیل امن عمل آج بھی تعطل کا شکار ہے۔
صرف گزشتہ ہفتے ہی انہوں نے اس خطے میں نئے سرے سے امن کے عمل کو شروع کرنے کی غرض سے نائب صدر کو بھیجا ضرور ہے تاہم انہوں نے اس سلسلے میں کسی سنجیدگی یا ذاتی دلچسپی کے ساتھ ان کوششوں کا مظاہرہ نہیں کیا نہ ہی اس میں براہ راست خود ملوث ہوئے حالانکہ اوباما نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے تصفیے کو ،امریکی قومی تحفظ کے لئے اہم قرار دیا تھا، انہوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا تھا کہ وہ ماضی کے سیاستدانوں کی طرح سابقہ غلطیوں کو کبھی نہیں دہرائیں گے کہ معاملات کو سرد خانے میں ڈال دو یہاں تک کہ حکومتی مدت ہی پوری ہو جائے اور مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں۔ اوباما کی انتظامیہ غزہ کے مسلمانوں کے مصائب کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جس سے دوران انتخابات مسلم ممالک نے ان سے جو امیدیں وابستہ کر لی تھیں وہ اب مسلم دنیا میں تیزی سے ناامیدی میں بدلتی جا رہی ہیں۔
اوباما کی سوچ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ ملک میں ہوتے ہیں تو وہ لبرل ایجنڈے پر عمل پیرا نظر آتے ہیں حتیٰ کہ ان کا عہدہ انہیں پابند کرتا ہے کہ وہ کس حد تک لبرل ہو سکتے ہیں۔ قومی تحفظ اور کافی حد تک خارجہ پالیسی پر وہ دائیں بازو کے سامنے شکست تسلیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی اخبار کے ایک کالم نگار نے وسیع البنیاد دو فریقی خارجہ پالیسی پر اتفاق کا حوالہ دیا ہے کہ اوباما نے بش دور کی پالیسیوں کو ختم کرنے کے حوالے سے اپنی نااہلیت کا ثبوت دیا ہے۔ ان کا طریقہ کار ممکن ہے مختلف ہو تاہم اوباما کی سوچ ،ماضی کے تسلسل کا ایک واضح عکس ہے۔
گوانتا موبے میں فوجی قید خانے کو بند کرنے اور9/11کے سازشیوں محمد خالد شیخ اور دیگر ملزمان کے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ چلانے کے فیصلے سے انحراف ظاہر کرتا ہے کہ اوباما کی سوچ پر ان کے پیشرو بش کے خیالات کا سایہ پڑنے لگا ہے۔ انہوں نے افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے تنازع کے خاتمے کے بجائے جنگ کو مزید سنگین بنانے کا انتخاب کیا ہے۔ اس طرح پاکستان میں ڈرون حملوں کے سلسلے کو وسیع کیا گیا ۔ ایران پر دباؤ میں اضافے کیلئے پابندیوں کے چوتھے دور کا آغاز ہوا اب اوباما کی ان پالیسیوں نے ان کے لبرل حامیوں کو تو مایوس کیا لیکن اس کے برعکس انہوں نے دائیں بازو کی پسندیدگی اور حمایت ضرور حاصل کر لی۔وہ اسرائیلی حکومت کو سمجھوتے کی پالیسی پر قائم رکھنے میں ناکام رہے، چنانچہ نائب صدر جو بائیڈن کے حالیہ دورے سے یہ مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن نے غیر مہذبانہ انداز میں اسرائیلی حکومت کو سخت ملامت کی ہے۔بہرکیف اوباما نے اپنے آپ کو ، اس الجھن سے دور رکھا ہوا ہے اور مشرق وسطیٰ میں واشنگٹن کی ڈپلومیی کو روک دیا ہے۔ منظم مصروفیت کی کمی اور اسرائیل کی دھونس جمانے کی چالوں کے سامنے،استقامت کے فقدان نے اس خطے میں اوباما کے اثر کو کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
تیسرا میدان جہاں اوباما کی ملکی معاملات میں گہری مصروفیت نے خارجہ پالیسی پر اثرات مرتب کئے ہیں،اس پر ممتاز امریکی کالم نگار نے حال ہی میں توجہ دلائی ہے ”واشنگٹن پوسٹ“ میں جیکسن ڈائل لکھتے ہیں کہ ان کی شخصیت میں غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ ذاتی روابط قائم کرنے کے حوالے سے عدم دلچسپی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ اوباما کے غیر ملکی رازداں کہاں ہیں؟ اس کے خیال میں درحقیقت ایسا کوئی نہیں ہے !
دیگر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انہیں جب بھی غیر ملکی رہنماؤں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو وہ یہ ذمہ داری اپنی ٹیم پر ڈال دیتے ہیں اور اکثر و بیشتر بذات خود انہیں فون کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں۔ملکی مصروفیات کے مقابلے میں غیر ملکی رہنماؤں کے ساتھ کسی بھی طرح کے ذاتی تعلقات قائم کرنے کی کوششوں سے نفرت، شاید اوباما کی شخصیت کا خاصہ ہے، ان کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ صدر میں ذاتی تعلقات کے قیام کے حوالے سے فکری فقدان پایا جاتا ہے۔ ان کی قیادت کے متعلق کئی نکات متضاد ہیں جیسا کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران انتھک مہم جو اور موثر رابطہ کار جس نے متاثر کن تقاریر کیں تاہم اقتدار میں آنے کے بعد وہ ایک پروفیسر کی طرح اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ایک اور تضاد یہ ہے کہ اگر اوباما اندرونی محاذ پر اپنی پالیسیوں کی کامیابیوں کے حصول میں مشکلات دیکھیں گے تو ممکن ہے کچھ کامیابیوں کے حصول کی کوشش میں وہ اپنا رخ خارجہ پالیسی کی جانب موڑ لیں۔ جس سے وہ دنیا کے منظر نامے پر زیادہ نمایاں دکھائی دے سکیں گے لیکن ان کی انتظامیہ خارجہ پالیسی میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے کے لائق ہو تو یہ ایک الگ بات ہو گی ۔ خصوصاً جب دوسرے ممالک میں محدود نتائج کے حصول کے حوالے سے امریکہ کی صلاحیت غیر اہم ہو چکی ہے۔