پاکستان اور افغانستان کے پہاڑوں سے القاعدہ کے حملے کا خطرہ

نائب صدارتی امیدواروں بائیڈن اور پالن کے درمیان مباحثہ

نشر في:

امریکا کی ڈیموکریٹک پارٹی کے نائب صدارت کے لئے امیدوار سینٹر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر ہمارے ملک پرکوئی حملہ ہوا تو یہ القاعدہ کی جانب سے ہوگا جو افغانستان اور پاکستان کے پہاڑوں پر اس کی منصوبہ بندی کررہی ہے.اسی وجہ سے بالخصوص پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کے قیام کی ضرورت ہے''جبکہ ری پبلکن پارٹی کی امیدوار،الاسکا کی گورنر سارہ پالن نے کہا ہے جوہری پاکستان اورجوہری ایران دونوں خطرناک ہیں.

نائب صدارت کے لئے دونوں امیدواروں کے درمیان واشنگٹن یونیورسٹی سینٹ لوئی ، میسوری میں جمعرات کو مباحثہ ہواجس میں سارہ پالن نے خود کو متوسط طبقے کی چیپمئین قراردیا جبکہ دونوں کے درمیان عراق،معیشت اور دوسرے ایشوز پرشدید اختلاف رائے پایا گیاہے.

مباحثے کے دوران پالن نے قدرے جارحانہ اندازاختیارکیا اوروہ اپنی اونچی ایڑھی والے جوتے پراٹھلاتی رہیں جبکہ جوبائیڈن نے روایتی اندازاختیار کیا اور بڑے مہذب انداز میں نکتہ وارسوالوں کے جواب دئیے.

ایک سوال کے جواب میں سارہ پالن نے کہا کہ جوہری پاکستان اورجوہری ایران دونوں خطرناک ہیں.بالخصوص ایران انتہائی خطرناک ہے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی.

بائیڈن نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے سخت گفتگو کی.ان کا کہنا تھا کہ عراق کی طرح افغانستان میں بھی امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی اور علاقے میں امریکی فوج کے کمانڈر نے بھی یہی بات کی ہے.

''جان مکین ہمیں مسلسل یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق مرکزی محاذ ہے لیکن میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک پرکوئی حملہ ہوا تو یہ القاعدہ کی جانب سے ہوگا جو افغانستان اور پاکستان کی پہاڑیوں پر اس کی منصوبہ بندی کررہی ہے.اسی وجہ سے بالخصوص پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کے قیام کی ضرورت ہے''.ان کا کہنا تھا.

پالن نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کئی جگہوں سے خطرات منڈلا رہے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے. لیکن پالن نے بائیڈن کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ افغانستان میں بھی فوج کی تعداد میں اضافے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکتی ان کا کہنا تھا کہ فوج کی تعداد میں اضافے کی جس پالیسی پر عراق میں عمل درآمد کیا گیا ہے اس پالیسی پر افغانستان میں بھی عمل درآمدکرنے کی ضرورت ہے.

بائیڈن نے اس کے جواب میں کہا کہ بارک اوباما نے ایک واضح منصوبہ پیش کیا ہے کہ اگلے سولہ ماہ کے دوران ذمہ داری عراقیوں کو منتقل کر دی جائے اوروہاں سے اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے .اوباما عراق سے ہرماہ ایک سے دو فوجی بریگیڈزکو واپس بلائیں گے''.

پالن اور بائیڈن نے عراق کے بارے میں مختلف نکتہ نظر پیش کیا.''ہم وہاں ہار کو قبول نہیں کر سکتے .افغانستان میں بھی ہم جنگ میں بہتر نہیں جارہے.ہم عراق جنگ جیتنے کے لئے گئے تھے''.پالن کا کہنا تھا.

پالن نے جواب میں اس منصوبے کو''ہتھیار ڈالنے کا سفید جھنڈا ''قراردیا اور کہا کہ بائیڈن بنیادی طور پر عراق میں جنگ کے حق میں تھے''.بائیڈن نے صدر بش کو عراق کے خلاف جنگ کی اجازت دینے سے متعلق 2002ء میں سینٹ میں پیش کی گئی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن اس کے بعد بش انتطامیہ جس طرح عراق جنگ کے امور کو نمٹاتی رہی ہے،وہ اس کے شدید ناقد بن گئے تھے.

متوسط طبقے کے چیمپئین

نوے منٹ تک جاری رہنے والے مباحثے میں بائیڈن کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس امریکا میں حالیہ مالیاتی بحران کا شکار گھروں کے مالکان اور مالیاتی اداروں کی مدد کرناچاہتے ہیں.

اس کے جواب میں سارہ پالن کاکہنا تھا کہ ''آپ کو گھروں کے مالکان اور مین سٹریٹ کے عام آدمیوں پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی لیکن اس معاملے میں آپ کو ٹیکس دہندگان سے سرمایہ کاروں کی طرح معاملہ کرنا ہوگا''.

مباحثے میں بائیڈن نے ری پبلکن صدارتی امیدوار جان مکین کو بش انتطامیہ کا تسلسل قرار دینے کی کوشش کی جبکہ پالن نےخود کو اور مکین کو متوسط طبقے کا چیمپئین قراردیا اورکہا کہ وہ واشنگٹن میں تبدیلی لائیں گے.

پالن نے خود کو اور مکین کو باربار غیر روایتی شخصیات قرار دیا جس پر بائیڈن نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ مکین لوگوں کی زندگیوں اور ان کو درپیش مسائل سے متعلق کبھی بھی غیر روایتی آدمی نہیں رہے.

بائیڈن کا کہنا تھا کہ مکین کا روزمرہ مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے .انہوں نے چند ہفتے پہلے قرار دیا کہ امریکی معیشت کی بنیادی مضبوط ہیں لیکن چند گھنٹے بعد ان کا کہناتھا کہ امریکی معیشت بحران کا شکار ہے.

مباحثے کے بعد نائب صدارت کے دونوں امیدواروں کے حامیوں نے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کیے ہیں اور سی این این اور سی بی ایس نیوزکی جانب سے کرائے گئے رائے عامہ کے جائزے میں بائیڈن کو فاتح قرار دیا گیا ہے لیکن سی این این کے جائزے میں لوگوں کی اکثریت نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ پالن نے توقع سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے.

پانچ بچوں کی ماں 44 سالہ ساہ پالن نے قومی منظر پر اپنی پہلی رونمائی میں جارحانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے بارک اوباما پرباربار حملے کئے.

جوبائیڈن اورسارہ پالن کے درمیان 4نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے پہلے یہ واحد مباحثہ تھا جبکہ ابھی صدارتی امیدواروں بارک اوباما اور سینٹر جان مکین کے درمیان دو مباحثے ہوں گے.