جنوبی وزیرستان :آپریشن راہ نجات کے دوران مزید30 جنگجو ہلاک،07اہلکار شہید
طالبان جنگجوٶں کے اہم مرکزپر پاک فوج کے قبضہ کے بعد شدید لڑائی کی اطلاعات
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان جنگجوٶں کے خلاف جاری آپریشن راہ نجات میں مزید تیس جنگجوٶں کو ہلاک کردیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار شہید ہوگئے ہیں.
سیکورٹی فورسز نے کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود کے آبائی علاقے کوٹکئی کا محاصرہ کرلیا ،تیارزہ اورکوٹکئی میں شدت پسندوں اور سیکورٹی فورسزکے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز جیٹ طیاروں اور کوبرا ہیلی کاپٹرز کی مدد سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنارہی ہیں جس میں ان کے متعددٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے منگل کی صبح ایک اہم پہاڑی سلسلے پر قبضہ کرلیا ہے جو جنوبی وزیرستان کے مغرب میں واقع ہے ۔ اس پہاڑی پر کنٹرول سے افغان جنگجوٶں کی جانب سے طالبان کی مدد کے امکانات کم ہو گئے ہیں
اس سے پہلے ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا تھا کہ پاک فوج کے جوانوں نے جنگی طیاروں اور توپخانے کی مدد سے طالبان جنگجوٶں کے ایک اہم گڑھ کوٹکئی کے قصبے پر قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد انہوں نے تلاشی کی کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارودبھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے جو جنگجو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے.پاک فوج کی کارروائی کے بعد طالبان جنگجوٶں نے جوابی حملہ کیا جس کے بعد فریقین کے درمیان علاقے میں شدید لڑائی کی اطلاعات ملی ہے.
جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن راہِ نجات کے دوران منگل کے روز مزید تیس جنگجوہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے دستے رزمک کے علاقے سے شدت پسندوں کے گڑھ مکین اور لدھا کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔آپریشن میں گن شپ ہیلی کاپٹرز،جیٹ طیارے اور زمینی دستے حصہ لے رہے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے فراہم کردہ اعدادوشمارکے مطابق گذشتہ چارروز سے جاری کارروائی میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعدادایک سودس ہوگئی ہے اوران کے تیس سے زائد ٹھکانے تباہ کردیئے گئے ہیں ۔بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو شدت پسندوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔
آئی ایس پی آر کی اطلاع کے مطابق سکیورٹی فورسز کنڈ کے شمال میں کسکئی کی پہاڑی پر پہنچ گئی ہیں جبکہ کوٹکئی کے مشرق میں طورغنڈئی کو محفوظ بنا دیا گیا ہے جس کے بعد کوٹکئی کی جانب پیش قدمی جاری ہے.کوٹکئی خود کش بمباروں کے استاد اور سنئیرطالبان کمانڈر قاری حسین محسودکا گاﺅں ہے۔کوٹکئی پر قبضہ ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اب فورسز کے لئے جنگجوٶں کے ایک اور مضبوط گڑھ سراروغہ تک پہنچنا آسان ہوگا.
فوجی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق سکیورٹی فورسز کو جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے دوران توقع سے کم مزاحمت کا سامنا ہے.لیکن جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار گھنے جنگلوں میں گھرے پہاڑوں میں جنگجوٶں کے ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کریں گے تو انہیں زیادہ شدید مزاحمت کا سامنا ہوسکتا ہے.
جنوبی وزیرستان میں اس وقت اٹھائیس ہزارفوجی قریباً دس ہزار طالبان جنگجوٶں کے خلاف ''آپریشن راہ نجات'' میں حصہ لے رہے ہیں جن میں ایک ہزارسخت گیر ازبک جنگجو بھی ہیں.ان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے بعض عرب جنگجو بھی شامل ہیں.
حوصلہ افزاء فوجی آپریشن
امریکا کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کے آپریشن کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی آپریشن کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا ۔
فوجی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی جانب سے گذشتہ دنوں کئے جانے والے حملوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت اجاگر کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن حوصلہ افزا ہے اور امریکا اس کی حمایت کررہا ہے ، لیکن یہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا توڑ کرنے کیلئے حکومت ِ پاکستان کے عزم کی نئی آزمائش ہے ۔
افغانستان میں انتخابی بحران کے حوالے سے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان میں بحران کے حل کیلئے کوششیں جاری ہیں اورجائز قانونی حکومت کی تشکیل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں لیکن صدر براک اوباما یہ بحران حل ہونے سے پہلے ہی نئی جنگی حکمت عملی کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔رابرٹ گیٹس نے کہا کہ صدراوباما افغانستان میں مزید فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کے معاملے پر کسی نتیجے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور اس بارے میں جلد کوئی فیصلہ کریں گے۔