اقوام متحدہ سے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ
فلسطینی یکطرفہ اقدام سے گریز کریں، اسرائیل کا انتباہ
ایک اعلی فلسطینی اہلکار نے اتوار کے روز انکشاف کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں اپنی ریاست کو تسلیم کرنے کے بارے میں درخواست پیش کرنے والے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے ریاست کے بارے میں فلسطینیوں کی جانب سے ایسے "یکطرفہ اقدامات" کو امن عمل کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
اعلی فلسطینی مذاکرات کار صائب عریقات نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ہم نے عالمی ادارے کی سیکیورٹی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ 67ء کی عرب۔اسرائیل جنگ میں صہیونی تسلط میں جانے والے علاقوں کے اندر فلسطینی ریاست کو عالمی طور پر تسلیم کرا سکیں۔ بہ قول عریقات، بیت المقدس اس ریاست کا دارلحکومت ہو گا۔
مسٹر عریقات کا کہنا تھا کہ ہم یورپی یونین کے رکن ملکوں، روس اور دوسرے ممالک سے اس ضمن میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔
فلسطینی مذاکرات کار کا حالیہ تبصرہ امریکا کی جانب سے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانے میں امریکی ناکامی کیوجہ سے فلسطینیوں کے اندر پیدا ہونے والی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ امن مذاکرات گذشتہ برس دسمبر میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
فلسطینی ریاست تسلیم کرانے کی درخواست ان متعدد آپشنز میں سے ایک ہے جس کے بارے میں فلسطینیوں نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ امن عمل کو جوں کا توں معطل رکھنے کی صورت میں اٹھا سکتے ہیں۔
دوسرے آپشن میں فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کر کے آزادی کا یکطرفہ اعلان کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد اقوام متحدہ سے فلسطینیوں کی موعود ریاست کی حدود متعین کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ نیز، عالمی ادارے سے اسرائیل کے مساوی حقوق کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔