اسرائیل کو مغربی کنارے کا مزید علاقہ ضم کر لینا چاہئے: صہیونی وزیر

تل ابیب کا فلسطینیوں کو الگ ریاستی شناخت کے لئے کوششوں پر انتباہ

نشر في:

ایک صہیونی وزیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر فلسطینی کسی امن معاہدے کو حتمی شکل دئیے بغیر اپنی آزاد ریاست کے قیام کا اعلان کر دیتے ہیں تو اسرائیل کو مغربی کنارے کا مزید علاقہ اپنی ریاست میں ضم کر لینا چاہئے.

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے قریبی اتحادی وزیر ماحولیات گیلاد ایردان نے سوموار کو ریڈیو اسرائیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اگر فلسطینی یک طرفہ طور پر اپنی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں تو اسرائیل کو مغربی کنارے میں مزید یہودی بستیوں کو ضم کرنے کے لئے ایک قانون کی منظوری دینے پر غور کرنا چاہئے''.

ایردان نے اپنے ریڈیو انٹرویو میں اسرائیل کے بعض دوسرے اقدامات کا تذکرہ کیا ہے.واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے اور بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں القدس الشریف اور مغربی کنارے کے بعض علاقوں کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا.

صہیونی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کے لئے ہر آپشن کھلا ہے اور وہ فلسطینی اتھارٹی کو رقوم کی منتقلی بھی بند کر سکتی ہے. وہ ان محصولات کی رقوم کا حوالے دے رہے تھے جو عبوری امن معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اکٹھا کرتا ہے.ایردان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حال ہی میں نرم کی گئی سفری پابندیوں کو دوبارہ سخت کرنے پر بھی غور کر سکتا ہے.

فلسطینی حکام نے کوئی نظام الاوقات وضع کئے بغیر ہی اتوار کو کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غزہ پر مشتمل آزاد ریاست کے قیام کے لئےبین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں.

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے مایوس ہو کر نیا قدم اٹھا رہے ہیں.فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان گذشتہ ایک سال سے بات چیت تعطل کا شکار ہے اور فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ بند ہونے تک امن مذاکرات بحال نہیں کریں گے.

فلسطینیوں کی جانب سے اپنی آزاد ریاست کے قیام کے لئے ممکنہ یک طرفہ اعلان پر انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے اتوار کو ایک تقریر میں خبردار کیا ہے کہ صرف اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے نتیجے ہی میں ایک فلسطینی ریاست قائم ہو سکے گی.

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ''اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا.کوئی یک طرفہ راہ اختیار کرنے سے طے شدہ معاہدوں کا فریم ورک برقرار نہیں رہے گا اور اسرائیل بھی یک طرفہ اقدامات کرے گا''.

فلسطینیوں کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ ان کے اقدام کا مقصد ریاست کے قیام کا اعلان کرنا نہیں بلکہ ہم تنازعے کے دو ریاستی حل کو زندہ رکھنا اور مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کے لئے عالمی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں''

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لئے ایک قرارداد کے اجراء کے سلسلہ میں رجوع کرنا اور یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان بالکل الگ الگ معاملہ ہے اور تنظیم آزادی فلسطین یک طرفہ طور پر ریاست کے اعلان کا آپشن تجویز نہیں کر رہی ہے''.

اسرائیل کی بائیں بازو کی جماعت لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے صنعت وتجارت کے وزیر بن یامین بن ایلیزر کا کہنا ہے کہ صرف مذاکرات ہی تنازعے کے حل کے لئے کوئی قابل عمل آپشن ہیں.انہوں نے یک طرفہ اقدامات کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا ہے.

آرمی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ''میری رائے میں فلسطینی علاقوں کو ضم کرنے کی باتیں صرف الفاظ کی حد تک ہیں اور فلسطینی دھمکی بھی صرف الفاظ ہی کی حد تک ہے، طرفین کے لئے آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کو مذاکرات کی جانب لایا جائے''.