اسرائیلی وزیر فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں پرامید

''حماس کے ساتھ بات چیت کے بعد گیلاد شالیت کی اسرائیل واپسی ممکن ہے''

نشر في:

اسرائیل کے ایک وزیر نے فلسطینیوں کے ساتھ زیرحراست صہیونی فوجی گیلاد شالیت کے بدلے میں قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے خوش امیدی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلہ میں کوئی معاہدہ طے کرنے کے لئے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے.

اسرائیل کے وزیر تجارت اور دفاعی امور کے بارے میں حکومتی پینل کے رکن بنجمن بن ایلیزر گذشتہ بدھ کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لئے بات چیت منقطع ہونے کے بعد پہلے اسرائیلی عہدے داروں ہیں جنہوں نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری کیا ہے.

بن ایلیزر نے اسرائیل کے چینل 10 ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''میں پرامید ہوں اور دعاگوہوں کہ گیلاد شالیت بہت جلدواپس اپنے گھر پہنچ جائے''.واضح رہے کہ حماس نے گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید اپنے سیکڑوں کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے.

بن ایلیزر نے قیدیوں کے تبادلے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ معاہدہ 2009ء کے اختتام تک طے پاسکتا ہے تو ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے پر امید ہیں.دائیں بازو کی جماعت لیبرپارٹی کے رکن بن ایلیزر کا کہنا تھا کہ ''اس حکومت نے ماضی کے برعکس ایک عمل شروع کیا ہے اور وہ اس کو پایہ تکمیل کو پہنچائے گی''.

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لئے مذاکرات کے عمل میں مصر اور جرمنی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں.اس مذاکراتی عمل میں دوروز قبل اس وقت ایک رکاوٹ پڑ گئی تھی جب اسرائیل نے حماس کے مطالبے پر اس کے دو کمانڈروں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا. اسرائیل کا حماس کے ان دونوں قیدیوں پر الزام ہے کہ وہ اسرائیلیوں پر حملوں کے لئے بم تیارکیا کرتے تھے اور ان کے بم دھماکوں کے نتیجے میں بیسیوں یہودی ہلاک ہو گئے تھے.

چند روز قبل اسرائیل اور حماس قیدیوں کے تبادلے کے لئے معاہدے کے قریب ترپہنچ گئے تھے اور حکام نے بتایا تھا کہ اسرائیل اپنے فوجی گیلاد شالیت کی رہائی کے بدلے میں ایک سو ساٹھ فلسطینیوں کو رہا کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اور اس نے فہرست میں شامل افراد پر اعتراضات بھی واپس لے لئے ہیں.

یاد رہے کہ اسرائیل ماضی میں متعدد مرتبہ اپنے یرغمال بنائے گئے فوجیوں یا ہلاک شدہ فوجیوں کی باقیات کے بدلے میں فلسطینیوں کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کر چکا ہے.گیلاد شالیت کو 2006ء میں حماس کی قیادت میں مزاحمت کاروں نے غزہ سرحد پر ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران پکڑا تھا.اب اسرائیل میں اس کی رہائی کے لئے مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی رہائی سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی محاصرے میں نرمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے جس سے فلسطینیوں کی مشکلات اور صعوبتوں کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی.

صہیونی قبضے کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں اسرائیلی جیلوں میں قید وبند کی ٓصعوبتیں برداشت کرنے والے فلسطینیوں کی رہائی بھی ان کے ہم وطنوں کے لئے ایک حساس معاملہ ہے جو آزاد ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں یا جن کا حماس کے نقطہ نظر سے صہیونی قبضے کے خلاف ایک کھلا تنازعہ چل رہا ہے اور جس کا اسرائیلی جبر و استبداد سے نجات کی صورت ہی میں خاتمہ ہو سکتا ہے.