.
.
.
.

پاکستان میں اغواء ہونے والے اقوام متحدہ اہلکار کا ویڈیو پیغام جاری

لاپتہ بلوچ خواتین کی رہائی کا مطالبہ

نشر في:

بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نامی ایک غیر معروف تنظیم، جس نے دو فروری کو کوئٹہ سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بحالی مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ جان سولیکی، کو اغوا کرنے کا دعوی کیا تھا، نے جمعہ کے رورز یرغمال اہلکار کی ویڈیو اور تصاویر کے ساتھ اپنا پیغام اور لاپتہ بلوچ خواتین کی فہرست ایک پاکستانی نیوز ایجنسی کے مقامی بیورو کو ایک لفافے میں بند کرکے ارسال کی ہے ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ہم اس خط کے ذریعے مسٹر جان سولیکی کی تصاویر اور ان کا پیغام اور اپنی گرفتار شدہ141خواتین کی لسٹ ارسال کر ر ہے ہیں۔ آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ ہمارے ارسال کردہ لسٹ اور مسٹر جان سولیکی کی تصاویر و پیغام جوکہ موبائل کے میموری کارڈ میں موجود ہے انہیں اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کو پہنچائیں۔

"اس کے علاوہ آپ اخبارات کے ذریعے ہماری جانب سے انہیں ہماری خواتین کو 72گھنٹوں کے اندر رہائی کا الٹی میٹم دے دیں اور عنقریب ہم اپنے غائب شدہ مرد حضرات کی لسٹ جن کے بارے میں ہمارے پاس معلومات ہیں جو سینکڑوں کی تعداد میں ہیں بھی ہم جلد ارسال کریں گے جنہیں منظر عام پر جلد لائیں کیونکہ اگر ہمارے مذکورہ مطالبات جلد پورے نہیں ہوئے تو ہم مسٹرجان سولیکی کو قتل کردیں گے۔"

بیمار جان سولیکی کا پیغام

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ و مغوی جان سولیکی نے اقوام متحدہ کے نام جاری کردہ پیغام میں کہا کہ "میں اچھا محسوس نہیں کر رہا ہوں، میری طبیعت خراب ہے لہذا میری رہائی کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔" ان کا مختصر ویڈیو پیغام بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نامی تنظیم نے جاری کیا ہے۔

ویڈیو پیغام میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے سربراہ کی آنکھوں پر سفید پٹی باندھ رکھی گئی تھی واضح رہے کہ بلوچ لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ نے یو این ایچ کے سربراہ جان سولیکی کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے 141خواتین کی رہائی 6000لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ قومی مسئلے کا جنیوا کنونشن کے مطابق حل جیسے تین اہم مطالبات رکھے ہیں.