تیل کے بدلے خوراک پروگرام میں بدعنوانیوں پر قانونی چارہ جوئی کا اعلان

برطانیہ میں عراق جنگ کی تحقیقات کا دوبارہ آغاز

نشر في:

عراق کے وزیرتجارت نے کہا ہے کہ ان کا ملک صدام حسین کے دور میں اقوام متحدہ کے تیل کے بدلے خوراک پروگرام میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں میں ملوث غیر ملکی فرموں کے خلاف امریکا میں قانونی چارہ جوئی کرے گا.

عراقی وزیر تجارت صفال الدین الصفی نے منگل کو ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے ایک امریکی وکیل کو تیل کے بدلے خوراک پروگرام سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کرنے والی فرموں کے خلاف کارروائی کے لئے کہا ہے.

فرانسیسی اخبار ''آزادی'' نے منگل کو ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراقی حکومت نے تیل کے بدلے خوراک پروگرام کی خلاف ورزی کرنے والی ترانوے غیر ملکی کمپنیوں سے ہرجانے کے طور پر دس ارب ڈالرز کی رقم طلب کی ہے.

اخبار کے مطابق ان کمپنیوں میں فرانس کی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی رینالٹ اور بڑی بنک کار کمپنی بی این پی پاریبس بھی شامل ہیں. تاہم بی این پی پاریبس نے بدعنوانیوں کے الزامات کو مسترد کردیا ہے.

اقوام متحدہ کا عراق کے لئے تیل کے بدلے خوراک پروگرام 1996ء سے 2003ء میں امریکی فوج کے حملے تک جاری رہا تھا.اس کے تحت صدام حسین کی حکومت کو تیل کی محدود مقدار کی فروخت کے بدلے میں انسانی ضرورت کی اشیاء کی درآمد کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ 1990ء میں کویت پر چڑھائی کی وجہ سے عراق کو اقوام متحدہ کی سخت پابندیوں کا سامنا تھا.

صدام حکومت نے مبینہ طور پر اس پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی رقوم سے کروڑوں ڈالرزخرد برد کر لئے تھے اور اس کا ایک بہت بڑا اسکینڈل منظرعام پر آیا تھا جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا.

گذشتہ اکتوبر میں امریکی میگزین ''وینٹی فئیر'' نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا کے فیڈرل ریزرو نے اپریل 2003 سے جون 2004ء کے درمیان بارہ ارب ڈالرز کی رقم عراق منتقل کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی جانب سے تیل کے بدلے خوراک پروگرام کی مد میں دی جانے والی رقم بھی شامل تھی.

عراق جنگ کی تحقیقات

درایں اثناء برطانیہ میں کرسمس کی تعطیلات کے بعد عراق جنگ کی تحقیقات کرنے والے پینل نے دوبارہ اپنا کام شروع کردیا ہے.

برطانیہ کو عراق جنگ میں الجھانے والے سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر توقع ہے کہ جنوری کے دوسرے نصف میں یا پھر فروری کے آغاز میں انکوائری کے روبرو پیش ہوں گے جبکہ ان کے ابلاغیات کے سابق سربرہا اور قریبی اتحادی ایلسٹیر کیمپبیل بارہ جنوری کو عراق جنگ سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے.

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر کی قیادت میں تحقیقات کرنے والے پینل کے روبرو ٹونی بلئیر کے پیش ہونے پرتشویش کا شکار ہیں اور انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ ٹونی بلئیر کے بیان سے حکمران جماعت کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں کیونکہ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براٶن جون میں ہونے والے عام انتخابات کے لئے مہم شروع کرچکے ہیں اور ٹونی بلئیر کا بیان ان کے لئے اور مشکلات کا سبب بن سکتا ہے.

اس دوران انٹرنیٹ پر ایک مہم بھی شروع کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے عمل میں ٹونی بلئیر سے سخت سوالات کئے جانے چاہئیں کہ انہوں نے برطانیہ کو ایک غیرمقبول جنگ میں کیوں الجھایا تھا.38 ڈگریز نامی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بلئیر نے ہمیں عراق جنگ میں ملوث کرنے کا فیصلہ کیا تھا اب ہم یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ وہ اس جنگ میں کیوں شریک ہوئے تھے''.