مشرق وسطیٰ میں جنس سے متعلق آن لائن مواد کی تلاش بلاک
سرچ انجن بِنگ حکومتی سنسر کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے:رپورٹ
اوپن نیٹ اینشی ایٹواواین آئی نے کہا ہے کہ امریکا کی بڑی کمپیوٹر کمپنی مائیکروسوفٹ کے سرچ انجن بِنگ کی جنس سے متعلق امور کی آن لائن تلاش کے حوالے سے سنسرشپ حکومت سے زیادہ سخت ہے.
بِنگ کے جنوری کے مہینے کے لیے عرب ممالک سے متعلق ایک جائزے سے ظاہرہوتا ہے کہ اس ویب سائٹ نے گیے ،لزبین ،ہم جنس پرستی یا دیگر جنسی مواد سے متعلق مواد کی تلاش کے لیے عربی اورانگریزی الفاظ کوفلٹرکیا تھا.
او این آئی کے مطابق مطلوبہ مواد کی تلاش کے لیے فلٹر الفاظ استعمال کرنے پر یہ پیغام نمودارہوتا ہے کہ ''آپ کے ملک یا خطے میں ایک سخت بِنگ محفوظ سرچ سیٹ کرنے کی ضرورت ہے.جس کے فلٹر کے بعد ایسے نتائج برآمد ہوں گے جو صرف بالغ صارفین ہی استعمال کرسکتے ہیں''.
اواین آئی کی رپورٹ کے مطابق ''مشرق وسطیٰ میں سیاسی پابندیاں عام ہیں اس لیے یہ پیغام بھی انہی پابندیوں کا مظہر ہے.البتہ ان تمام ممالک کو جنس،عریانی،ہم جنس پرستی اور ایسے ہی دوسرے ''سماجی مواد''کو فلٹرکرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے''.
, رپورٹ کے مصنف نے یہ نتیجہ اخذکیا ہے کہ ''ہرملک کوترجیحی طور پرایک صارف کی جانب سے وضاحت کردہ ایک زیادہ ہدف پرمبنی حکمت عملی اختیارکرنے کی ضرورت ہے اوراس میں تقریر کی آزادی پر کم سے کم اثرات مرتب ہونے چاہئیں''.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''مائیکرو سوفٹ اس بات کا اشارہ دے چکی ہے کہ وہ دنیا بھرمیں اظہاررائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار اداکرے گی لیکن اس کے اس موقف اوربِنگ کے مواد کو فلٹر کرنے کے حوالے سے موجودہ معیارات کا آپس میں کوئی تعلق نظرنہیں آتا''.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بِنگ آئی پی ایڈریس کی بنیاد پرتلاش کو سیٹ کرنے کے اندازکا اطلاق نہیں کرتی جس سے پتا چلتا ہے کہ کمپیوٹرزکہاں واقع ہیں.اس لیے صارفین دوسرے ممالک کے لیے وضع کردہ تلاش انجن کا انتخاب کرکے فلٹرزحاصل کرسکتے ہیں. مائیکروسوفٹ نے اس حوالے سے پوچھے گیے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا.