امریکا کا اپنا مشرق وسطیٰ امن منصوبہ پیش کرنے پر غور
اسرائیل کا یہودی آباد کاری کا منصوبہ امن کے لیے مدد گار نہیں: اوباما
اسرائیل کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے بعد وائٹ ہاٶس اسرائیل، فلسطینی مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکا کی جانب سے ایک نیا امن منصوبہ پیش کرنے پر غور کر رہا ہے.
نیویارک ٹائمز میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی عہدے دار انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن کے دورہ کے موقع پر یہودی آباد کاروں کے لیے سولہ سو نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان کے بعد اس کے امن مذاکرات کے حوالے سے عزم پر سوالات اٹھا رہے ہیں.
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتہ قبل پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکی حکام اسرائیل کے حوالے سے اپنے ملک کی پالیسی میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں. ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''موجودہ اسٹیٹس کو نہیں چلے گا اور اس سے ہم کسی سمت آگے نہیں بڑھ سکیں گے''.
اوباما انتظامیہ کے ایک سنئیر عہدے دار نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ''امریکا ابھی تک اسرائیل کی جانب سے ردعمل کا منتظر ہے کہ وہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے اعتماد کی فضا بحال کرنے کی غرض سے اقدامات کرے''.
امریکی صدر براک اوباما نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں نئے مکانات کی تعمیر کا منصوبہ مشرق وسطیٰ امن عمل کے لیے مدد گار ثابت نہیں ہو گا لیکن ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بحران نہیں پیدا ہونا چاہیے تھا.
براک اوباما نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ''اسرائیل ہمارا ایک قریب ترین اتحادی ہے اور ہمارے اور اسرائیلی عوام کے درمیان خصوصی تعلقات ہیں جو ختم ہونے نہیں جارہے لیکن دوستوں میں بعض اوقات نااتفاقی بھی پیدا ہو جایا کرتی ہے''.
اوباما نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے نائب صدر جو بائیڈن کو ایسے وقت میں ایک خصوصی پیغام دے کرخطے کے دورے پر بھیجا تھا جب امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا تھا اور انہوں نے اسرائیل کو یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی تھی کہ اس کی سکیورٹی ہمارے لیے سب سے مقدم ہے.
امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ امن عمل کو آگے بڑھانے کی شرائط کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے.ان کا کہنا تھا کہ ''اسرائیلی وزیر داخلہ نے جو اقدامات کیے تھے. وہ امن عمل کے لیے مددگار نہیں تھے .وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس بات کو تسلیم کیا تھا اور اس پر معذرت کی تھی.انہوں نے کہا کہ اس وقت فریقین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امن عمل کو آگے بڑھانا ہی ان کے مفاد میں ہے.