القاعدہ کی دھمکیوں سے عراق نہیں چھوڑیں گے:عراقی عیسائی پادری
مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کوئی جنگ نہیں
عراق میں کیتھولک عیسائی فرقے کےسربراہ بشپ متی شابا متوکا نے کہا ہے کہ انہیں القاعدہ کی طرف سے حملوں کی دھمکیوں سے کوئی خوف نہیں۔ دھمکیوں کے تناظر میں وہ عسیائیوں کو عراق سے کسی دوسرے ملک میں ھجرت کرنے کی تجاوز یر اور مطالبات کو تسلیم نہیں کرتے۔
العربیہ.نیٹ کی رپورٹ کےمطابق عیسائی پادری نے ان خیالات کا اظہار العربیہ ٹی وی کے پروگرام "صناعہ الموت" میں خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ عیسائی مذہبی رہ نما نے دو ہفتے قبل بغداد کے نواح میں الکرادہ کے مقام پر"النجاة" چرچ پر ہوئے القاعدہ کے حملے کی شدید مذت کی اور کہا کہ ایک چرچ پر حملہ عراق میں پوری عیسائی کمیونٹی پر حملہ ہے، تاہم وہ اس طرح کی متشددانہ کارروائیوں سے ہر گز خائف نہیں ہوں گے۔
متوکا کہہ رہے تھے کہ "عیسائی اور مسلمان عراق میں صدیوں سے آباد چلے آ رہے ہیں۔ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کوئی جنگ نہیں۔ دونوں قومیں ایک دوسرے کے احترام پر یقین رکھتی ہیں اور پرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہیں۔ القاعدہ کے شدت پسندوں کی طرف سے بغداد کے چرچ پر کیے گئے حملے کو وہ مسلمانوں کی طرف سے حملہ تصور نہیں کرتے"۔
ایک سوال کے جواب میں القاعدہ کی طرف سے مسیحی عبادت گاہوں اور شخصیات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ "القاعدہ کی دھمکیاں صرف عیسائیوں کے لیے نہیں ان کا ہدف پوری عراقی قوم ہے، جس میں تمام مذاہب کے پیروکار شامل ہیں۔ لہذا وہ القاعدہ کی دھمکیوں کی وجہ سے عراق نہیں چھوڑیں گے"۔
اس موقع پر انہوں نے دو ہفتے قبل القاعدہ کے "النجاة" چرچ پر حملے کی خونی واردات کی تصویریں بھی دکھائیں جو عینی شاہدین نے کارروائی کے دوران تیار کی تھیں۔
متی متوکا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کے چرچ پر حملے کے دوران زیادہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب چرچ کے کھلے ہال میں عبادت گذاروں پر فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈوں سے حملے کیے گئے۔ جبکہ بچ جانے والےافراد نے خود کو چرچ کے دو چھوٹے چھوٹے کمروں میں بند کر دیا تھا۔ حملہ آوروں نے انہیں بھی ہلاک کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
عیسائی پادری کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے چرچ میں داخل ہو کر اپنے مطالبات پیش نہیں کیے بلکہ فوری طور پر اندھا دھند قتل عام شروع کر دیا۔ کئی لوگوں کو قتل کیے جانے کے بعد سیکیورٹی اداروں اور امریکی فوج نے چرچ کو گھیرے میں لے لیا تو شدت پسندوں نے مصر میں دو خواتین کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔