.
.
.
.

بحرینی انتخابات میں اخوان سمیت دینی جماعتوں کو شکست فاش

خواتین امیدوار بھی منتخب نہیں ہو سکیں

نشر في:

بحرین میں پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کا دوسرا اور آخری مرحلہ بخیر و خوبی اختتام پذیر ہو گیا۔ ہفتے کے روز منعقدہ انتخابات کے میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ توقع یہ کی جا رہی ہے کہ انتخابات میں حسب سابق آزاد امیدواروں کی اکثریت کامیاب ہورہی ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ہفتے کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلےمیں مجموعی طور پر 40 نشستوں میں بقیہ 09 نشستوں پر چناٶ عمل میں لایا گیا۔ ان نو نشستوں کے لیے 18 امیداروں کے درمیان مقابلہ تھا جبکہ 31 نشستوں پر انتخابات گذشتہ ہفتے کو مکمل کر لیے گئے تھے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل آج اتوار کو بھی جاری رہے گا۔

رپورٹ کے مطابق انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بحرین میں دو اہم مذہبی سیاسی جماعتوں اخوان المسلمون اور سلفی گروپ کے درمیان کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی۔ اس کے باوجود سلفی گروپ کے ووٹروں نے بعض حلقوں میں بائیں بازو کے امیدواروں کے مقابلے میں اخوان المسلمون کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔

ہفتے کو ووٹنگ کا آغاز صبح آٹھ سے شام آٹھ بجے تک جاری رہا۔ پارلیمنٹ کی نو سیٹوں کے لیے آزاد اور اٹھارہ دیگر امیدوار آمنے سامنے تھے۔ ضلع المحرق کےحلقہ نمبر 2 میں ابراھیم ابو صندل اور عبدالحمید المیر، حلقہ تین میں علی احمد اور ابراھیم الشریف، حلقہ چار میں محمود المحمود اور عبدالباسط الشاعر اور حلقہ نمبر آٹھ میں غانم البوعینین اور عبدالناصر عبداللہ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ تھا۔

شمالی ضلع میں حلقہ چھے میں محمد العمادی اور جمال داٶود، وسطی ضلع کے حلقہ تین میں عدنان المالکی اور ابراھیم الھادی، حلقہ چار میں عیسیٰ القاضی اور منیرہ فخر اور حلقہ آٹھ میں علی زائد اور عبدالطیف مد مقابل تھے۔

بحرین کے بلدیاتی نمائندوں کے لیے ملک کے چار بڑے اضلاع وسطی، شمالی، جنوبی اور المحرق میں مجموعی طور پر 16 نشستوں پر امیدواروں کا چناٶ ہوا۔ ڈیڑھ درجن کے قریب ان حلقوں میں درجنوں امیداوار آمنے سامنے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مذہبی جماعتوں اخوان المسلمون، سلفی گروپ، اہل تشیع کی الوفاق اور خواتین امیدواروں کو شکست کا سامنا تھا۔ اس کے باوجود ان جماعتوں کو توقع تھی کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں میدان مار لیں گی لیکن اب تک کے نتائج بھی پہلے انتخابی مرحلے سے مختلف نہیں رہے۔ اب تک سامنے آنے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کےمطابق آزاد امیدواروں کو دیگر پارٹیوں پر سبقت حاصل ہے۔