.
.
.
.

مصری سلفیوں کا اخوان المسلمون کو ووٹ دینے سے انکار

انتخابات کے جواز سے متعلق اسلام پرستوں کے درمیان اختلاف

نشر في:

مصر میں پارلیمانی انتخابات سے چار روز قبل اسلام پسند جماعتوں اخوان المسلمون اور سلفی مسلک کے درمیان انتخابات کے جواز اور عدم جواز کے بارے میں اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ دوسری جانب سلفی مسلک کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں اخوان المسلمون کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔

خیال رہے کہ 28 نومبر کو مصر میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہورہے ہیں جن میں ملک کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے امیدوار بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ اخوان المسلمون کے نزدیک انتخابی دنگل میں شرکت ایک شرعی ذمہ داری اور اسلام کا ایک اہم رکن ہے، لہذا اس میدان کو خالی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جبکہ سلفی مسلک موجودہ جمہوریت کو اسلامی شورائی نظام کے الٹ خیال کرتے ہوئے اس کی حمایت سے انکاری ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق سلفی مسلک کے پیروکاروں کی مصر میں ایک قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ سلفیوں کی طرف سے اخوان المسلمون کی حمایت سے انکار نے جماعت کے امیدواروں میں مایوسی پیدا کی ہے۔

اسکندریہ میں سلفی مسلک کے ایک مرکزی رہ نما عبدالمنعم الشاحات نے موجودہ طرز جمہوریت اور اس کے تحت انتخابی عمل میں شرکت پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "جمہوریت، اسلام کی شورایت کا متبادل نہیں۔ جمہوریت اور اسلامی شوریٰ میں جوہری فرق ہے۔ اخوان المسلمون سمیت جمہوریت پر یقین رکھنے والی تما جماعتیں غلط فہمی کا شکار ہیں۔ جمہوریت کے اسلامی شورائی نظام کے خلاف ہونے کی وجہ سے سلفی مسلک کے پیروکار اخوان المسلمون سمیت کسی بھی دوسری جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے"۔

ایک سوال کے جواب میں سلفی مسلک کے عالم دین نے اخوان المسلمون کی طرف سے خواتین کو انتخابی امیدوار کے طور پر شامل کرنے اور غیر مسلم کی حکومت تسلیم کرنے پر بھی تنقید کی۔ شیخ عبدالمنعم کا کہنا تھا کہ خواتین کو انتخابی سیاست میں شمولیت اور غیر مسلم کی حکمرانی کو تسلیم کیے جانے پر وہ اخوان المسلمون کو ووٹ دینے کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سلفی مسلک کا خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے اور غیر مسلموں کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کے بارے میں موقف واضح ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اخوا ن المسلمون کا جواب آن غزل

دوسری جانب اخوان المسلمون کی جانب سے سلفی مسلک کے اس موقف پر فوری ردعمل سامنے آیا ہے۔ اخوان المسلمون کی ترجمان خیال کئے جانے والے نیوز ویب پورٹل پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت سازی کے لیے انتخابات میں حصہ لینا ایک شرعی ذمہ داری اور اسلام کا اہم رکن ہے۔

اخوان المسلمون کے نام منسوب بیان میں کہاگیا ہے کہ "ہم نے مصری علماء، مبلغین اور دیگر اہل علم سے بار بار یہ اپیل کرتے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی حالت میں انتخابی میدان کو خالی نہ چھوڑیں کیونکہ حکومت اور اقتدار کے لیے علماء کا آگے آنا اسلام کی سر بلندی کے لیے ناگزیر ہے، تاہم ہماری اپیلوں پر علماء نے کوئی توجہ نہیں دی، جس کے باعث فاسقوں اور فاجروں کے لیے انتخابی میدان کھلا چھوڑ دیاگیا۔ علماء کا خود انتخابی میدان میں اتارنے سے گریزفریضہ دعوت دین کی نفی ہے کیونکہ حکومت اور انتخابی عمل میں شرکت اسلام کا ایک اہم رکن ہے"۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اخوان المسلمون کی جانب سے ملک بھر کے تمام علماء اور مسالک کے سامنے انتخابات کے حوالے سے مکمل اور مفصل ایجنڈا پیش کیا تھا۔ کہ اگر وہ انتخابات میں اپنے امیدوار سامنے نہیں لاتے تو کم ازکم اسلام پسند جماعتوں اور اخوان المسلمون کے امیدواروں کی حمایت کی جائے۔ تاہم ہمیں افسوس ہے کہ سلفی مسلک کے علماء نے اپنی شرعی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے نہ صرف اس میدان کو خالی چھوڑ دیا ہے بلکہ اخوان المسلمون پر تنقید شروع کر دی ہے۔

اخوان المسلمون یہ سمجھتی ہے کہ انتخابات میں شرکت مصر کے تمام مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری اور اسلا م کا اہم فریضہ ہے۔ لہذا ہماری تمام مسالک اور عوام سے اپیل ہے کہ وہ انتخابات میں عوامی خدمت کے اہل اور خوف خدا رکھنے والے امیدواروں کے حق میں اپنی رائے دیتے ہوئے اس شرعی فریضے کی ادائیگی کا اہتمام کریں۔

غیر مسلم کی حکمرانی محض افسانہ

العربیہ کے مطابق اخوان المسلمون کی طر ف سے سلفی مسلک کے اس موقف کی بھی نفی کی گئی ہے جس میں انہوں نے انتخابات میں غیر مسلم کے اختیارات کو تسلیم کرنے تنقید کی ہے۔ اخوان المسلمون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سلفی عالم دین"شیخ عبدالمنعم الشاحات" کا یہ بیان کہ غیر مسلم کے اقتدار کو تسلیم کرنا جائز نہیں، محض ایک افسانوی بات ہے۔

اخوان کا کہنا ہے کہ جب لادین عناصر جمہوریت، سیکولر ازم یا غیر مسلم کی بالادستی کو تسلیم کرنے اور خاتون کی حکمرانی کا نعرہ لگائیں تو ایسے وقت میں علماء کو میدان میں نکل کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔" سب کچھ حاصل نہ ہونے کے ڈر سے سب کچھ چھوڑنے کا بھی کوئی جواز نہیں"۔ ملکی آئین کے تحت ایک غیر مسلم کے سربراہ مملکت بننے میں کوئی مانع نہیں۔ تاہم اس کا راستہ صرف قانون سازی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں علماء کی اکثریت قانون سازی کر کے ایک غیر مسلم کے اقتدار کے خلاف قانون وضع کرے۔ لیکن یہ اسی وقت ممکن جب علماء اپنی اس شرعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس میدان میں اترنے کا فیصلہ کریں۔