.
.
.
.

امریکا مصر کے''شفاف'' انتخابی عمل پر ناراض

امریکا کی اپنے اتحادی ملک میں انتخابات پر تنقید

نشر في:

امریکا کی اوباما انتظامیہ نے مصر میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انداز میں انعقاد نہ ہونے کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں اور انتخابات میں بے ضابطگیوں اور فراڈ کے الزامات سے متعلق رپورٹس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان پی جے کراٶلے نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں انتخابات سے قبل اپوزیشن امیدواروں کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے اور ان کے حامیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات پر مایوسی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کو میڈیا تک رسائی بھی نہیں دی گئی تھی''۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو انتخابات کے روز سکیورٹی فورسز کی جانب سے مداخلت اور دباٶ ڈالنے کے حربے استعمال کرنے کی رپورٹس پر مایوسی ہوئی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں سوموار کو مظاہرین نے انتخابات میں دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ انہوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور متعدد کاروں اور دو پولنگ اسٹیشنوں کو نذر آتش کر دیا۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے حکمران جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پر انتخابات میں کامیابی کے لیے بڑے پیمانے پر فراڈ کے الزامات لگائے ہیں۔

حکومتی ذرائع نے ووٹ ڈالنے کی شرح 25 فی صد بتائی ہےجبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس دعوے سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ووٹ ڈالنے کی شرح صرف دس سے بارہ فی صد رہی ہے۔ مصر کے پارلیمانی نمائندوں اور ججوں پر مشتمل اعلیٰ انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک کے کل چار کروڑ دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹروں میں سے ایک چوتھائی نے اتوار کو پہلے مرحلے کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

کمیشن آج منگل کو انتخابات کے نتائج کا اعلان کر رہا ہے۔ مصر کے سرکاری اخبارات نے گذشتہ روز اطلاع دی تھی کہ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی اشاریوں کے مطابق صدر حسنی مبارک کی جماعت کو بیشتر حلقوں میں برتری حاصل ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ انتخابات منصفانہ انداز میں منعقد ہوئے ہیں لیکن اپوزیشن اور غیر جانبدار مبصرین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے.

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ مصر کے انتخابات میں اسی صورت میں اعتماد کا اظہار کیا جا سکتا ہےجب حکومت موجودہ خامیوں کو دور کرے گی اور آزاد مبصرین اور امیدواروں کے نمائندوں کی مکمل اور شفاف انداز میں رسائی کو یقینی بنائے گی۔

مصر کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اخوان المسلمون نے کہا ہےکہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں پارلیمان میں اس کی نمائندگی مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور آیندہ سال صدارتی انتخابات سے قبل صدر حسنی مبارک کی حکمران جماعت کی کسی مخالفت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

پی جے کراٶلے کا کہنا تھا کہ''امریکا اپنی تشویش کے باوجود مصری حکومت اور شہری گروپوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے تا کہ انہیں ان کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی مقاصد کے حصول میں مدد دی جا سکے''۔

لیکن مصر، امریکا کی جانب سے غیر ملکی مبصرین کو انتخابات کی مانیٹرنگ کی اجازت نہ دینے پر تنقید کو مسترد کر چکا ہے۔ اس نے امریکا پر اپنے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا۔ واضح رہے کہ مصر، مشرق وسطیٰ میں امریکا کا ایک اہم اتحادی ملک ہے اور وہ اس سے سالانہ اربوں ڈالرز کی امداد وصول کرتا ہے لیکن حالیہ پارلیمانی انتخابات کی شفافیت اور حکومتی مداخلت کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔