فلسطینی اتھارٹی کا صدارتی، پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان، حماس کا انکار
فلسطینی اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات مستعفی
فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر قیادت اتھارٹی نے ستمبر سے قبل صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ غزہ کی حکمراں حماس نے فتح کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔
محمود عباس کے ایک سنئیر مشیر یاسر عبد ربہ نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ ''فلسطینی قیادت نے ستمبر سے قبل صدارتی اور قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ دیں''۔
وہ مغربی کنارے کی حکمران فتح اور اس کی متحارب غزہ کی حکمراں اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے درمیان اختلافات کا حوالہ دے رہے تھے جن کے درمیان شدید مخاصمت پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب حماس نے فلسطینی علاقوں میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔
حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے غزہ میں ایک بیان میں کہا کہ ان کی تنظیم انتخابات میں حصہ لے گی اور نہ ان کو جائز قرار دے گی اور نہ ہی ان کے نتائج تسلیم کرے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن دونوں گروپوں کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی نے دو روز قبل ہی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں 9 جولائی کو مقامی کونسلوں کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا لیکن حماس نے اس فیصلے کو بھی مسترد کر دیا تھا۔
فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان غسان خطیب کا کہنا تھا کہ کابینہ کے فیصلے کے تحت دونوں فلسطینی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرائے جائیں گے لیکن اگر حماس نے انتخابات کی تیاری کی اجازت نہ دی تو صرف مغربی کنارے میں ہی انتخابات کرائے جائیں گے۔
غزہ میں حماس کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کی حکومت کو انتخابات کرانے کا کوئی حق حاصل نہیں اور ان کی جماعت دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی مصالحت ہونے تک مغربی کنارے میں بھی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی۔
فلسطینی علاقوں میں 17 جولائی 2010ء کو مقامی حکومتوں کے انتخابات ہونا تھے لیکن تب بھی حماس نے ان میں حصہ لینے سے معذوری ظاہر کی تھی جس کے بعد صدر محمود عباس نے یہ انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔ واضح رہے کہ حماس مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ صدر عباس کی چار سالہ آئینی مدت جنوری 2009ء میں ختم ہو گئی تھی۔
فلسطینی علاقوں میں 2006ء میں ہوئے گذشتہ عام انتخابات میں حماس نے مغرب کے حمایت یافتہ صدر محمود عباس کی تنظیم فتح کے مقابلے میں خلاف توقع نمایاں کامیابی حاصل کی تھی لیکن ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس کی حکومت ختم کر دی گئی تھی۔ حماس نے جون 2007ء میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی صدر محمود عباس کی وفادار فورسز کو نکال باہر کیا تھا اور اس کے بعد وہاں اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔
فلسطینی اتھارٹی نے 2006ء کے بعد غزہ اور مغربی کنارے میں کوئی انتخابات نہیں کرائے۔ صدر محمود عباس اور پارلیمان کے منتخب ارکان اپنی آئینی مدت ختم ہو جانے کے باوجود کام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ محمود عباس کو ایک یہ بھی خدشہ ہے کہ انتخابات میں حماس زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے جس کے بعد ان کی فتح تحریک کے اقتدار کا خاتمہ ہو جائے گا۔
حماس اور فتح کے درمیان مصالحت کے لیے ماضی میں مذاکرات کے متعدد دور ہو چکے ہیں۔ مصر کی ثالثی میں دونوں جماعتوں کے لیڈروں میں اکتوبر 2009ء میں مذاکرات کا آخری دور ہوا تھا جس میں فتح نے مصر کی جانب سے پیش کیے گئے مصالحتی فارمولے کو تسلیم کر لیا تھا جبکہ حماس نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
ادھر دوسری جانب فلسطینی انتظامیہ کے اسرائیل کے ساتھ اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مسٹر عریقات سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات مرحوم کے دور میں سنہ 2003ء میں اسرائیل سے مذاکرات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ مقرر ہوئے تھے۔ فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ صائب عریقات نے اپنا استعفیٰ صدر محمود عباس کو بھیج دیا ہے۔ فلسطینی عہدیدار کا کہنا تھا کہ صائب عریقات صرف مذکراتی کمیٹی کی سربراہی سے مستعفی ہوئے ہیں تاہم ان کی تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکنیت برقرار ہے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی "معا" کے مطابق صائب عریقات نے ہفتے کو انکشاف کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے دوران اہم راز افشاء ہونے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کر رہے ہیں، جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس "لیکج" میں کون کون سے عناصر ملوث ہیں۔ نیز یہ اہم دستاویزات کن مقاصد کے تحت ذرائع ابلاغ تک پہنچائی گئی تھیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل کے ساتھ کئی سال پر محیط خفیہ مذاکرات کے دوران صہیونی حکومت کو رعایتیں دینے کا ایک اسکینڈل قطر کے ایک نجی عربی ٹی وی نے ایک ماہ قبل طشت ازبام کیا تھا، جس کے بعد فلسطینی مذاکرات کاروں کو سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔
دستاویزات میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل سےخفیہ مذاکرات میں فلسطینی مذاکرات کاروں نے بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی اسرائیل کو اجازت دی تھی۔اس کےعلاوہ بیت المقدس کو یہودیانے کی اجازت دینے کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی تقسیم کے اسرائیلی فارمولے پربھی رضامندی کااظہار کیا تھا۔ڈیڑھ ہزار سے زائد ان اہم دستاویزات میں یہ انکشاف بھی کیاگیاتھا کہ رام اللہ انتظامیہ نے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی پربھی اسرائیل سے سودے بازی کی تھی۔
اسی تناظرمیں فلسطینی اتھارٹی نے ان خفیہ دستاویزات کو خلاف حقیقت قرار دیا تھا تاہم ان کے منظر عام پر لائے جانے کی تحقیق کا فیصلہ کیا گیا۔ مستعفی مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا تھا کہ "اگر یہ ثا بت ہوجائے کہ خفیہ دستاویزات مذکرات کمیٹی نے افشاء کی ہیں تو وہ اس کا پہلا اور آخری ذمہ دار خود کو سمجھیں گے کیونکہ وہ اس کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ یہ میری ذمہ داری تھی کہ خفیہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے معاملات کو پوشیدہ رکھا جائے"۔
صائب عریقات نے اسرائیلی لیڈر شپ سے خفیہ مذاکرات کے دوران ہوئی بات چیت کے افشاء پر متعدد مرتبہ خود کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔ایک ہفتہ قبل بھی انہوں نے کہا کہ تھا کہ وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ خفیہ راز کہاں سے افشاء ہوئے۔انہوں نے قطری ٹی وی کےخلاف قانونی کارروائی کا بھی اعلان کررکھا ہے۔