جنوبی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملہ، القسام بریگیڈ کے 2 کارکن شہید

پانچ فلسطینیوں کی شہادت کے ایک دن بعد

نشر في:

قابض اسرائیلی فوج کی فلسطینی شہر غزہ کی پٹی پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعہ کو علی الصباح صہیونی فوج نے غزہ کے مشرق میں خان یونس شہر میں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے مراکز پر بم بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم سےکم دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہداء کا تعلق القسام بریگیڈ سے بتایا جاتا ہے۔

گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی فوج کی جارحیت میں شہداء کی تعداد 07 ہوگئی جبکہ 50 کے قریب شہری زخمی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کو علی الصباح صہیونی فوج کے ڈرون طیاروں کے ذریعے کیے گئے حملے میں القسام بریگیڈ کے دو کارکن عبداللہ القرار اور معتز ابو جامع شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والے دونوں شہری خان یونس کے مشرق میں خزاعہ کے مقام پر تھے کہ اسرائیل کے بغیر پائلٹ کے طیارے نے ان کے قریب ایک میزائل داغا۔

عینی شاہدین کے مطابق صہیونی فوج کے حملے میں دو فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں غزہ میں یورپی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صہیونی فوج کے جنگی طیاروں نے جمعہ کو غزہ کے وسط میں ایک خالی مکان پر بھی بمباری کی جس سے مکان تباہ ہو گیا تاہم اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر غزہ کے سرحد علاقوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے یہودی کالونیوں پر گذشتہ چند گھٹنوں کے دوران کم ازکم 50 راکٹ فائر کیے ہیں جس کے بعد صہیونی فوج کی نقل وحرکت تیز ہو گئی ہے۔

درایں اثنا فلسطینی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان ہونے والے تازہ مذاکرات میں صہیونی فوج کے خلاف مشترکہ کارروائیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ تمام فلسطینی مزاحمتی گروپ صہیونی فوج کی غزہ پر بڑھتی جارحیت کو متحدہ کوششوں سے روکنے پر تیار ہیں اور قابض فوج کی تنصیبات پر راکٹ حملے جاری رکھے جائیں گے۔