عراق میں امریکی فوج کی تعیناتی میں توسیع کا دعویٰ مسترد
عراقی ترجمان نے امریکی وزیر دفاع کے بیان کی تردید کر دی
عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے ایک معاون نے امریکی وزیر دفاع لیون پینٹا کے اس دعوے کی چند منٹ کے بعد ہی تردید کر دی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ عراق اس سال کے اختتام کے بعد امریکی فوج کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کرنے پر متفق ہو گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ بغداد حکومت امریکی فوج کے ایک تربیتی مشن کو 2011ء کے بعد بھی ملک میں موجود رہنے کی اجازت دینے پر آمادہ ہو گئی ہے۔ مسٹر لیون پینیٹا نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا کہ ''میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ بالآخر ہاں کہہ دیں گے''۔لیکن عراقی حکومت نے فوری طور پر ان کے اس دعوے کی تردید کر دی ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے میڈیا ایڈوائزر علی موسوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم نے امریکی فوج کے تربیتی مشن کو عراق میں موجود رکھنے کے حوالے سے کوئی اتفاق نہیں کیا ہے۔ابھی مذاکرات چل رہے ہیں اور یہ مکمل نہیں ہوئے ہیں''۔
یادرہے کہ امریکا اور عراق کے درمیان 2008ء میں طے پائے سکیورٹی معاہدے کے تحت امریکی فوج نے اگست 2010ء میں جنگی کارروائیاں ختم کردی تھیں اور دسمبر 2011ء کے اختتام پر تمام امریکی فوجیوں کا عراق سے انخلاء مکمل ہوجائے گا لیکن دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے معاہدے کے تحت امریکی فوج کےقیام کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔تاہم ابھی تک عراقی حکومت نے امریکا سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی ہے۔
عراق کے بعض سیاسی لیڈروں نے 3اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ 2011ء کے بعد بھی فوجی تربیتی مشن کی ملک میں موجودگی برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کریں گے۔امریکی اور عراقی فوجی افسراس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ عراقی فورسز کو ملک کی فضائی حدود ، بندرگاہوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ابھی معاونت کی ضرورت ہے۔
مسٹر لیون پینیٹا کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے تربیتی مشن کی عراق میں تعیناتی کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات کے باوجود 2008ء کے سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اس کے تحت 2011ء کے آخر تک تمام امریکی لڑاکا فورسز کو عراق سے واپس بلا لیں گے۔
واضح رہے کہ مسٹر پینیٹا کے پیش رو سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ عراقی حکومت کی درخواست پر امریکی فوج کی 31دسمبر2011ء کے بعد بھی تعیناتی کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔اس سلسلہ میں عراقی حکومت کو بلا تاخیر کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔
انھوں نے بغداد کے اپنے آخری دورہ کے موقع پر کہا کہ ''ہم رواں سال کے بعد بھی عراق میں اپنی فوج کو تعینات رکھنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس سلسلہ میں فیصلہ کرنا عراقیوں کا کام ہے''۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں کے لوگ ہمیں اپنے ملک میں تعینات رکھنا چاہتے ہیں تواس سلسلہ میں انہیں جلد فیصلہ کرنا ہو گا تا کہ ہم کوئی منصوبہ بندی کر سکیں۔
عراق میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل لائیڈ آسٹن یہ کہہ چکے ہیں کہ عراقی فورسز کے پاس ابھی سکیورٹی کے ضمن میں درکار صلاحیتیں نہیں ہیں۔وہ اپنی فضائی حدود کا دفاع نہیں کرسکتا اور نہ اپنی فورسز کو تیار حالت میں رکھنے کے لیے اسلحے اور سامان رسد کی فراہمی کو یقینی بناسکتا ہے۔
اس وقت عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد چھیالیس ہزار ہے۔ ۔مارچ 2003ء میں عراق پر چڑھائی کے بعد سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ڈیڑھ لاکھ امریکی فوجیوں کو صدام حسین کی فوج کے ساتھ لڑائی اور وہاں قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن بعد میں اس میں بتدریج کمی کر دی گئی تھی۔