عاجل

البث المباشر

سوڈانی صدر عمر بشیر کا ریفرینڈم سے قبل جوبا کا دورہ

جنوبی سوڈان میں 40 لاکھ ووٹروں کے اندراج پر امریکا مطمئن

سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر جنوبی سوڈان میں ریفرینڈم کے انعقاد سے پانچ روز قبل علاقائی دارالحکومت جوبا پہنچے ہیں جبکہ امریکا نے استصواب رائے کے لیے چالیس لاکھ ووٹروں کے اندراج پر خوش امیدی کا اظہار کیا ہے۔

صدر بشیر جوبا میں منگل کو جنوبی سوڈان کے صدر سلفاکیر سے ملاقات کرنے والے تھے۔ وہ ہوائی اڈے پر پہنچے تو اس موقع پر آزادی کے حامی سیکڑوں مظاہرین موجود تھے۔ انہوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے حق میں نعرے درج تھے اور ایک پر لکھا تھا:''دنیا کے ایک سو ترانویں ملک کا خیرمقدم''۔ ہوائی اڈے پر سلفا کیر نے ان کا استقبال کیا۔

درایں اثناء امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان فلپ کراٶلے نے واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران جنوبی سوڈان میں ریفرینڈم کے لیے ووٹنگ سے قبل خوش امیدی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سوڈان اور جنوبی سوڈان نے گذشتہ چند ماہ کے دوران ایک طویل فاصلہ طے کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اوباما انتظامیہ کے سوڈان کے لیے خصوصی نمائندے اسکاٹ گریشن اور تجربہ کار سفارت کار پرنسٹن لائمن ریفرینڈم کے موقع پر سوڈان ہی میں موجود ہوں گے۔ پرنسٹن کو امریکی صدر نے جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کے لیے اپنا خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے۔

امریکی ترجمان نے کہا کہ شمالی اورجنوبی سوڈان نے مثبت اشارے دیے ہیں لیکن ان دونوں کے درمیان سرحدوں کے تعین،متنازعہ علاقے ایبی کے مستقبل اور تیل کی آمدن کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں.اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو ریفرینڈم کے بعد جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان مسلح کشیدگی کا خطرہ ہے۔

ووٹروں کی رجسٹریشن

ریفرینڈم میں حصہ لینے کے لیے جنوبی سوڈان کے قریباً چالیس لاکھ اہل ووٹروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرالیا ہے۔استصواب رائے کرانے کے ذمے دار ادارے ریفرینڈم کمیشن کے ایک رکن شان ریک مضوت کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان ،آٹھ بیرونی ممالک اور شمالی سوڈان کی ریاستوں سمیت اب تک انتالیس لاکھ تیس ہزار نو سوسولہ ووٹروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

ووٹروں کی ایک بڑی اکثریت جنوبی سوڈان سے ہی تعلق رکھتی ہے اور بیرونی ممالک میں مقیم ساٹھ ہزار اہل ووٹروں نے استصواب رائے کے لیے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے جبکہ شمالی سوڈان میں ایک لاکھ بیس ہزار ووٹروں کی رجسٹریشن کی گئی ہے۔گذشتہ مردم شماری کے مطابق جنوبی سوڈان کی کل آبادی اسی لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

شان ریک نے بتایا کہ اب تک اندراج کیے گئے ووٹروں میں باون فی صد خواتین شامل ہیں۔منتظمین نے خواتین کی ریفرینڈم کے لیے رجسٹریشن کی غرض سے زبردست کوششیں کی ہیں تاکہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین خاص طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے نہ رہ جائیں۔

ریفرینڈم کمیشن کے رکن نے مزید بتایا ہے کہ ووٹنگ کے لیے درکار تمام مواد پورے جنوبی سوڈان میں منگل کی شام تک پہنچا دیا جائے گا۔ان کے اس اعلان سے یہ خدشات بھی دم توڑ گئے ہیں کہ بیلٹ پیپروں کی چھپائی کے لیے تاخیر سے ٹینڈر جاری کرنے سے ریفرینڈم کو ملتوی کیا جاسکتا ہے۔

شان ریک کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے وقت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے اورہم کمیشن کو یہ تجویز کریں گے کہ اس میں توسیع کردی جائے۔واضح رہے کہ جنوبی اور شمالی سوڈان کے علاوہ پڑوسی ممالک یوگنڈا،کینیا،ایتھوپیا اورمصرکے علاوہ برطانیہ، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا میں مقیم جنوبی سوڈانیوں کی ریفرینڈم کے لیے رجسٹریشن کی جارہی ہے۔

ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے والوں کے لیے یہ شرط عاید کی گئی ہے کہ وہ جنوبی سوڈان کے 1956ء سے مستقل رہائشی ہوں۔تب سوڈان نے غیر ملکی استعمار سے آزادی حاصل کی تھی۔جن لوگوں کاجنوبی سوڈان کے قبائل سے تعلق ہے،وہ بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتے ہیں۔

تجزیہ کاریہ کہہ رہے ہیں کہ ریفرینڈم کے نتیجے میں جنوبی سوڈان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن کے طور پر ابھر سکتا ہے۔امریکا کا کارٹر سنٹر،یورپی یونین اور عرب لیگ جیسے ادارے استصواب رائے کی نگرانی کے ذمے دار ہیں۔2005ئ میں طے پائے معاہدے کے تحت ریفرینڈم کے جائز اور قابل قبول ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں کم سے کم ساٹھ فی صد رجسٹرڈ ووٹراپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔