عاجل

البث المباشر

"شام خطے کا سلگتا ہوا اہم مسئلہ بن گیا، ترکی اور اسرائیل کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے"

دمشق میں عوامی احتجاج کا پس منظر مخدوش

عرب ملک شام میں بھی بعض دیگر پڑوسی ممالک میں انے والے عوامی انقلابات کے بعد موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی لہر میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ عالمی اور علاقائی سطح پر شام کی صورت حال کو تیونس، مصر، یمن اور لیبیا سے مختلف سمجھا جا رہا ہے۔

شام میں صدر بشار الاسد کےخلاف کھڑی ہونے والی تحریک نے امریکا کو کسی ایک فریق کی حمایت کرنے میں ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے شامی مظاہرین کی حمایت کھلے بندوں کرنے کے بجائے اس ضمن میں محتاط رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق شام کی صورتحال اس لیے بھی منفرد ہے کہ شام کا مسئلہ ترکی اور اسرائیل کے لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگرچہ شام کے موجودہ صدر بشار الاسد اسرائیل کے مخالف سمجھے جاتے ہیں تاہم گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کے حوالے سے ان کا نرم رویہ اسرائیل کے لیے کوئی برا شگون نہیں۔ ترکی اور شام کے درمیان اقتصادی روابط کے بعد انقرہ کی دلچسپی پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ چنانچہ دونوں پڑوسی ملک اسرائیل اور ترکی بھی شام کے سلگتے مسئلے کو اپنے اپنے مخصوص پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔

بظاہر امریکی حکام شام میں موجودہ عوامی احتجاج کی حمایت کی جا رہی ہے اور واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ شام میں موجودہ نظام کی تبدیلی سے ایک جانب خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کم ہو گا، دوسری جانب لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی امداد کے راستے بند ہوں گے۔ اس اعتبار سے خطے میں امریکی مفادات کو کسی قسم کے نقصان کا خطرہ نہیں۔ تاہم کچھ ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ صدر بشار الاسد کی حکومت کی تبدیلی کی صورت میں ملک میں اس سے کوئی سخت حکومت بھی آسکتی ہے جو اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو اور خطے میں امریکی موجودگی کے لیے بھی پرشانی کا باعث ہو۔

ترکی کیا چاہتا ہے

رپورٹ کے مطابق شام کے پڑوسی مسلمان ملک ترکی دمشق کو کسی بڑی افراتفری سے ہر قیمت پر بچانا چاہتا ہے۔ترکی میں جب سے ترقی و انصاف پارٹی نے اقتدار سنھبالا ہے دمشق کے ساتھ اپنی اقتصادی دوستی کو مضبوط کیا ہے۔ وزیر اعظم طیب ایردوان نے دمشق اور انقرہ کے درمیان عرصہ دراز سے چلی آرہی سرد مہری کو ختم کیا اور یوں دمشق نے بھی انقرہ کے ایک ثالث کے کردار کو تسلیم کیا ہے۔

شام میں تبدیلی کی چلنے والی ہوا ہے کے تناظر میں ترکی یہ چاہے گا کہ شام میں حکومتی نظام میں مناسب حد تک جدت ائے تاہم یہ جدت ایسی نہ ہو جو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے اقتصادی تعلقات کے لیے ضرر رساں ہو۔ ترکی کو یہ احساس اس لیے بھی ہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران دمشق کے ساتھ تجارت میں دو کروڑ ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے، جو ترکی کے لیے کسی بھی پڑوسی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

سیاسی مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ ترکی شام کو ایک جدید جمہوری ریاست بنانے کے لیے خود بھی سرگرم ہے۔ شام میں ترکی کے اقتصادی مفادات کے پس پردہ انقرہ کے اسے ایک جدید ریاست بنانے ہی کے مقاصد کار فرما ہیں۔

گولان تنازع پر دمشق کی خاموشی

سنہ 1967ء کی عرب ۔ اسرائیل جنگ میں صہیونی ریاست کے قبضے میں چلے جانے والے شام کے زرخیر علاقے" وادی گولان" کے تنازع پر شام کی جانب سے جس شدت کے ساتھ آواز اٹھائی جانی چاہیے تھی یا جس کی توقع کی جا رہی تھی، دمشق کی جانب اس شدت کا اظہار نہیں کیا گیا، یہی وجہ ہےکہ اسرائیل نے بھی شام کی جانب سے وادی گولان کے تنازع پر کبھی کوئی بڑا خطرہ محسوس نہیں کیا۔

البتہ شام کی جانب سے لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کی امداد اسرائیل کے لیے ایک پریشانی کا باعث ضرور رہی ہے تاہم یہ بھی تل ابیب کے لیے اس لیے کوئی بڑا مسئلہ نہیں رہا کیونکہ اسرائیل کا خیال ہے کہ وہ حزب اللہ جیسے چھوٹے خطرات سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ شام، اگر حزب اللہ کے دفاعی اور فوجی میدان میں مدد کر رہا ہے، اس کے باوجود حزب اللہ اسرائیل کے لیے کوئی سنگین خطرہ نہیں بن سکتی ہے کیونکہ اسرائیل وقتا فوقتا تنظیم کی سرکوبی کرتا رہتا ہے۔

مذکورہ اسباب کی بنا پر شام میں کوئی بڑی تبدیلی اسرائیل کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو امریکیوں کے سامنے اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ امریکا نے اس کے جواب میں اسرائیل کو وہی تسلی دی ہے جو مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار کےخاتمے کی حمایت کے دوران دی تھی کہ امریکا، اسرائیل کی سلامتی پر انچ نہیں انے دے گا ۔ لہذا اسرائیل کو یہ جان لینا چاہیے کہ شام میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی صہیونی ریاست کے لیے کوئی سنگین خطرہ نہیں بن سکتی۔

امریکا، شام میں تبدیلی سے خائف

مصر اور تیونس میں عوامی انقلاب کے برعکس امریکا، شام میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے عوام کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں ایا۔ اغاز میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے دمشق میں عوامی مظاہروں کی حمایت کی گئی تھی تاہم واشنگٹن نے اپنے موقف میں بتدریج کمی لانا شروع کر دی۔

امریکی موقف میں نئی تبدیلی یہ سامنے آئی کہ واشنگٹن نے شام میں مظاہرین کو کچلنے میں براہ راست شام کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ایران کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔

سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت کے محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار ڈیود چینکر نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ شام میں نظام حکومت کی تبدیلی کے بارے میں سابق صدر جارج بش نے ان سے طریقہ کار وضع کرنے کو کہا تھا۔ چینکر کہتے ہیں کہ وہ شام کے حوالے سے نیا فارمولہ تیار کرنے کی خاطر مشاورت کے لیے ایک دوسرے سابق عہدیدار پیٹر روڈمین کے پاس گئے۔ روڈمین نے کہا کہ شام کےبارے میں کوئی فارمولہ کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ سنہ 70 کی دہائی میں مسٹر کیسنجر نے بھی شام میں تبدیلی کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی۔

چینکر مزید لکھتے ہیں کہ امریکی صدر براک اوباما کی اور ان کی موجودہ انتظامیہ شام کی صورت حال پر گو مگو کا شکار ہیں۔ اگر صدر بشار الاسد موجودہ بحران پر قابو پالیتے ہیں تو یہ امریکا کے لیے ایک اور مشکل کا باعث بن سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکا کھل کر شام کے بجائے مظاہرین کو کچلنے کا الزام ایران پر عائد کر رہا ہے۔