.
.
.
.

ایران:تین خلیجی جزیروں پر متحدہ عرب امارات کا دعویٰ مسترد

جزیرے ہمیشہ کے لیے ایران کا حصہ ہیں:ترجمان شوریٰ کمیٹی

نشر في:

ایران نے اپنے زیرقبضہ تین جزیروں پر متحدہ عرب امارات کے دعوے کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا حصہ رہیں گے۔

ایران کی خبررساں ایجنسی فارس کی ایک رپورٹ کے مطابق شوریٰ کونسل کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے تین جزیروں ابوموسیٰ ، طنب صغریٰ اور طنب کبریٰ پر خودمختاری کے دعوے کو مسترد کردیا ہے''۔فارس کی رپورٹ کے مطابق ایران نے غیرملکی قوتوں پر متحدہ عرب امارات کو ان تینوں جزیروں پر دعوے کے لیے اُکسانے کا الزام عاید کیا ہے۔

کمیٹی کے ترجمان کاظم جلالی نے یواے ای کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زائد الناہیان کے گذشتہ ہفتے نیویارک میں ایک بیان پر کڑی تنقید کی ہے جس میں انھوں نے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خلیج میں ان کے ملک کے تین جزیروں پر قبضہ ختم کردے۔

مسٹر کاظم جلالی نے کہا کہ ''یہ ایک ایسا ایشو ہے جو غیرملکی طاقتوں نے یواے ای کے وزیرخارجہ کو ڈکٹیٹ کرایا ہے۔یہ طاقتیں مشرق وسطیٰ کو ہمیشہ تنازعات اور کشیدگی کا شکار دیکھنا چاہتی ہیں''۔

شیخ عبداللہ نے گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''ان جزیروں پر 1971ء میں غیرقانونی قبضے کے بعد سے یواے ای نے اس معاملے کے پُرامن حل کے لیے ایک لچکدار سفارتی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔یہ حل،خواہ دوطرفہ بات چیت کے ذریعے تلاش کیا جائے یا اس معاملے کو تصفیے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں بھیجا جائے''۔

انھوں نے کہا کہ '' یواے ای ایران کے ساتھ براہ راست، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر روابط کے ذریعے تنازعے کے کسی پُرامن ،منصفانہ اور مستقل حل تک پہنچنے کے لیے کوئی پیش رفت نہ ہونے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے''۔

شیخ عبداللہ نے ایران پر زوردیا کہ وہ جزیروں کی ملکیت کا تنازعہ طے کرنے کے لیے سنجیدہ اور براہ راست بات چیت کرے یا اس معاملے کو تصفیے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں بھیج دے۔انھوں نے کہا کہ تینوں جزیرے متحدہ عرب امارات کا حصہ ہیں۔

یاد رہے کہ ایران نے مغرب کے حمایت یافتہ شاہ کے زمانے میں 1971ء میں مذکورہ تینوں جزیروں کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔اسی سال برطانیہ نے متحدہ عرب امارات کو آزادی دی تھی اور اپنی فوجوں کو وہاں سے واپس بلا لیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے طنب صغریٰ اور کبریٰ پر قبضہ کرلیا تھا جبکہ ابوموسیٰ جزیرے کا شارجہ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت مشترکہ طور پر انتظام سنبھال لیا تھا۔شارجہ اب یواے ای کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ ان تینوں جزیروں میں سے صرف ابوموسیٰ ہی آباد ہے اور یو اے ای کا کہنا ہے کہ ایران نے تزویراتی اہمیت کے حامل اس جزیرے کا ہر طرح کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے اور اس نے وہاں ایک فوجی بیس اور ایک ہوائی اڈا بھی قائم کررکھا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے گذشتہ سال مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے دورے کے موقع پر ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خلیج میں تین جزیروں کو خالی کر دے۔ انھوں نے ان جزائر پرایرانی قبضے کو اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے کے مشابہ قراردیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے ابوموسیٰ اور طنب صغریٰ اورکبریٰ پر قبضے سے اس کے تمام ہمسایہ عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

عرب ریاستیں ان تین متنازعہ جزیروں پر متحدہ عرب امارات کے دعوے کی حمایت کرتی ہیں۔یہ تینوں جزیرے تیل اور گیس بردار بحری جہازوں کی سمندری گذرگاہ کے قریب واقع ہیں اور ان میں سے ابوموسیٰ جزیرے پر انسانی آبادی موجود ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے قریبی اتحادی متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات استوار ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان 2008ء میں اس وقت سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے جب ایران نے ایک متنازعہ جزیرے پر میری ٹائم دفاتر قائم کرلیے تھے۔ ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ وہ خلیج فارس میں واقع ان تین جزیروں پر اپنا قبضہ برقرار رکھے گا۔