انور العولقی کی زندگی کے آخری دنوں کی تفاصیل "العربیہ" پر جاری
دو حملوں میں زندہ بچ گئے، تیسرا فیصلہ کن ثابت ہوا
امریکی خفیہ اداروں کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے یمنی نژاد امریکی مبلغ اور القاعدہ کے رہ نما انور العولقی کی زندگی سے متعلق نت نئی معلومات منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں ان کی زندگی کے اس حصے سے متعلق بھی معلومات سامنے آنا شروع ہو گئیں ہیں کہ جو انہوں نے امریکا میں گذرا۔
انور العولقی کی زندگی کا ایک اہم دور وہ ہے کہ جو انہوں نے سان ڈی ایگو میں سنہ 1996ء میں وہاں بطور امام مسجد گذرا۔ وہاں ان کی ملاقات امریکا میں زیر حراست نابینا مصری عالم دین الشیخ عمر عبد الرحمان کے قریبی دوستوں سے ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد سے وہ امریکی حکام کی مسلسل میں نگرانی میں آ گئے۔
سان ڈی ایگو میں العولقی پر دو مرتبہ اپنی گاڑی میں عصمت فروش خواتین کو لانے لیجانے کا الزام بھی لگا۔ اسی جگہ انہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں دھماکا کرنے والے دو نوجوانوں نواف الحازمی اور خالد المحضار سے ملاقات کی۔
نائن الیون کے حملوں کے بعد انورالعولقی سے امریکی حکام نے کئی مرتبہ پوچھ گچھ کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا ٹیلی فون نمبر نائن الیون کی منصوبہ بندی کرنے والے ایک اہم رکن رمزی بن الشیبہ کے فلیٹ سے ملا تھا۔ اس سلسلے میں امریکی حکام نے کئی مرتبہ العولقی کو گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ پر مرتبہ انہیں چکما دے کر اپنی محفوظ پناہ گاہ یمن منتقل ہو جاتا تھا۔
قتل کی دو ناکام کوششیں
امریکا کے خفیہ ادارے اور فوج انور العولقی کی حالیہ چند عشروں سے کڑی نگرانی کر رہے تھے۔ العولقی پہلے امریکی شہری تھے کہ جنہیں امریکا کی تیارکردہ دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ امریکا کے بغیر پائیلٹ ڈرونرز طیارے مسلسل ان کی نگرانی کر رہے تھے اور وہ ہر لمحہ یمن کے علاقے الجوف سے ان کے باہر نکلنے کا انتظار کرتے رہتے تھے۔
آخر کار جمعہ کے روز وہ لمحہ آن پہنچا کہ جب انور العولقی اپنے گھر سے نکل کر ایک پک اپ گاڑی میں سوار ہوئے، وہ دو دوسرے گاڑیوں کے جلو میں گھر سے نکلے ہی تھے کہ امریکی سی آئی اے کے ڈرونرز نے انہیں نشانہ بنانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔
یمن کے معیاری وقت 09:55 انہی جاسوسی جہازوں سے تین میزائل داغے گئے، جن کا نشانہ صرف وہ گاڑی تھی کہ جس میں انور العولقی سوار تھے۔ میزائل لگتے ہی گاڑی دھماکے اڑ گئی اور اس طرح امریکا کو انتہائی مطلوب شخص کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔
اس سے پہلے انور العولقی کو قتل کرنے کی دو ناکام کوششیں ہو چکی تھیں، تاہم دو روز قبل ہونے والی تیسری کوشش کامیاب رہی۔