.
.
.
.

سعودی عرب: حجاج کرام کی سہولت کے لیے ٹرین منصوبہ تیار

وزیر برائے لوکل گورنمنٹ کا منصوبے کا اچانک معائنہ

نشر في:

سعودی عرب کے حکام نے مُلک کے جنوب میں المشاعر المقدس کے مقام پر حجاج کرام کی سہولت کے لیے شروع کیے گئےٹرین منصوبے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرینیں چالو حالت میں ہیں اورمنصوبے میں کوئی فنی خرابی نہیں۔

خیال رہے "المشاعر مقدس ٹرین پروجیکٹ" کا آغاز سنہ 2009ء میں ایک چینی کمپنی کے تعاون سے کیا گیا تھا جس پر06 کروڑ 70 لاکھ ریال کی لاگت آئی ہے۔ حجاج کرام کی سہولت کے لیے مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدس(مزدلفہ، منیٰ اور مقام عرفات) کے دمیان ریلوے لائنیں بچھائی گئی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد حجاج کرام کو مناسک حج کی ادائیگی کے دوران سفر کی صعوبت سے بچانا اور مشاعر میں چھوٹی گاڑیوں کے بڑھتی تعداد کو کم کرنا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موسم حج کے قریب آتے ہی سعودی حکام نے مشاعر مقدس ٹرین پروجیکٹ کو فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ اسی سلسلے میں سعودی وزیربرائے دیہی ترقی شہزادہ منصور بن متعب بن عبدالعزیز نے اچانک منصوبے کا معائنہ کیا ہے۔ اس موقع پرمنصوبے پرکام کرنے والے ماہرین اورپروجیکٹ ڈائریکٹرانجینیئرفہدابوطربوش نے انہیں بریفنگ دی۔

بعد ازاں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے المشاعرٹرین پروجیکٹ کے ڈائریکٹرابوطربوش نے بتایا کہ" تمام لائنوں پرٹرینیں اب چالوحالت میں تیار کھڑی ہیں۔ ٹرین کے لیے زیرزمین نصب کردہ الیکٹرانک سسٹم کا کام مکمل ہوچکا ہے اوراب یہ ٹرین ریموٹ کنٹرول کے ذریعےاپنے مخصوص راستوں پرچلنے کے لیے تیارکھڑی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ابوطربوش کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس سال رمضان المبارک میں ٹرین منصوبے کا آزمائشی تجربہ کیا تھا۔ اس دوران انہیں ٹرینوں کے آپریشنل سسٹم میں کسی قسم کی تکنیکی خرابی دیکھنے کو نہیں ملی جس سے وہ اپنے منصوبے کی کامیابی کے لیے مطمئن ہیں۔

المشاعر ٹرین پروجیکٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایام حج کےموقع پرب چھائی گئی چھ ریلوے لائنوں میں خود کار ٹرینوں کی آمد ورفت کے اوقات کا بھی تعین کردیا ہے۔ آٹھ ذی الحج کی صبح تک ہماری آزمائشی سروس جاری رہے گی تاکہ یہ دیکھا جاسکےکہ آیا اس دوران کسی قسم کی فنی خرابی یا مشکل توپیش نہیں آ رہی۔ آٹھ ذی الحج کو چونکہ حجاج کرام کی آمد ورفت شروع ہوجائے گی۔ اس طرح مجموعی طور پرحجاج کرام کو ایک مقام سے دوسرے تک منتقل کرنے کے لیے 17 ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ ایک ٹرین کی بوگیوں میں 3000 افراد اور مجموعی طور پر72 ہزار افراد کوساڑھے سات منٹ کے اندرایک سے دوسرے مقام پر منتقل کردیا جائے گا۔

فہد ابوطروش کا کہنا تھا کہ المشاعر ٹرین میں ٹرینوں کے لیے کل پندرہ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں نواسٹیشن المشاعر میں تین مقام عرفات کے لیے اور تین منیٰ اور مزدولفہ کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تمام ریلوے اڈوں پرحجاج کرام کی تفریح اور آرام کے لیے کشادہ اورہوادار کمروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حج کے موقع پرمجموعی طور پر17 ٹرینیں چلائی جائیں گی جن میں ہر ٹرین 12 بوگیوں پرمشتمل ہوگی، ہر بوگی کے پانچ دروازے ہوں گے تاکہ شہریوں کوسوار ہونے اور اترنے میں دشواری پیش نہ آئے۔

خیال رہے کہ المشاعرٹرین پروجیکٹ کا اہم مقصد جہاں ایک جانب حجاج کرام کومناسکِ حج کی ادائیگی کے دوران ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے، وہیں المشاعر میں گاڑیوں کے ھجوم اور ٹریفک کے مسائل پرقابو پانا بھی شامل ہے۔ ٹرینیں چلنیں کے باعث خلیجی ممالک کے حجاج کرام اور دیگر حجاج مشاعر میں اپنے طورپرگاڑیوں کے استعمال سے بچ جائیں گے اور یوں المشاعر کی سڑکوں پر35 ہزار گاڑیوں کی کمی واقع ہونے سے ٹریفک کی روانی میں آسانی بھی پیدا ہوگی، سڑکوں پرٹریفک کم ہونے سے حادثات کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔