.
.
.
.

"بن لادن تک رسائی میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے"

اسامہ کا خاندان کو سفری پابندیوں سے آزاد

نشر في:

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کی تفتیش کرنے والے پاکستانی کمیشن نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ کا پتہ لگانے میں سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف غداری اور قتل کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے سابق سنیر جج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کمیشن تحقیق کر رہا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان میں طویل عرصے تک کیسے روپوش رہے۔ اس کمیشن نے سرکاری سرجن شکیل آفریدی پرغداری اور قتل کا مقدمہ بنانے کی سفارش کی ہے، جس کے بارے میں سکیورٹی حکام نے یقین ظاہر کیا ہے کہ انہیں ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور انہوں نے معلومات امریکی انٹیلی جنس ایجنٹوں کو دی تھیں۔

ڈاکٹر آفریدی سے مفت ویکسینیشن مہم کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس نے مارچ سے اپریل کے دوران بن لادن کے کمپاؤنڈ کے قریبی علاقے میں چلائی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنا تھا۔

کمیشن نے ایک اعلامیئے میں کہا: ’’ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے کمیشن کے سامنے رکھے گئے ریکارڈ اور شواہد کے تناظر میں، کمیشن کا خیال ہے کہ ان کے خلاف پاکستانی ریاست کے خلاف سازش اور غداری کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب اس کمیشن نے بن لادن کے خاندان کو سفری پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے: ’’کمیشن کو اب ان کی مزید ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے بن لادن کی تین بیواؤں، جن میں دو سعودی اور ایک یمنی شہری ہے اور ان کے تقریباﹰ دس بچوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ کمیشن نے اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ بھی ایبٹ آباد کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو اس کے مستقبل کا فیصلہ مقامی قوانین کے تحت کرے گی۔

اس کمیشن نے قبل ازیں بدھ کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا تفیصلی انٹریو بھی کیا گیا جس کا مقصد اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور اس کی پناہ گاہ کے خلاف دو مئی کو خفیہ امریکی آپریشن کے بارے میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا موقف جاننا تھا۔

ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی طویل عرصے سے موجودگی اور اس کے کمپاؤنڈ پر یکطرفہ امریکی حملے کو بعض تجزیہ کاروں نے پاکستانی فوج کے لیے بنگلہ دیش کی علاحدگی کے بعد کا سب سے تباہ کن واقعہ قرار دیا تھا۔