.
.
.
.

سعودی عرب: منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں 20 فی صد اضافہ

اکثریت کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں

نشر في:

سعودی عرب کے اسپتال ذرائع کی جانب سے جاری اعداد و شمار کےمطابق گذشتہ چند برسوں کے دوران ملک بھرمیں منشیات استعمال کرنے والے افراد کے 320 نئےکیسز سامنے آئے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں 20 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق سعودی اسپتالوں کی میڈیکل رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ منشیات کے عادی اس مکروہ دہندے میں ملوث ہونے والے 30 فی صد افراد کی عمریں 15 سال سے بھی کم ہیں، جس سے چھوٹی عمر کے افراد میں ملک میں تیزی کے ساتھ فروغ پذیر منشیات کی عادت کا پتہ چلتا ہے۔ نئے سامنے آنے والے کیسیز میں 20 فی صد کی عمریں 20 سال یا اس سے زیادہ ہیں۔

سعودی عرب میں قومی کمیٹی برائے انسداد منشیات کے ڈائریکٹر برائے تحقیقی امور ڈاکٹر سعید السریحہ نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "خوش آئند پہلویہ ہے کہ منشیات کے عادی افراد علاج کے لیے اسپتالوں کا رُخ کرنے لگے ہیں لیکن تشویش کا امریہ ہےکہ اس مکروہ دہندے میں کم عمرافراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے"۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں منشیات کے نقصانات کی آگہی مہمات کے ذریعے اس پرقابو پایا جا سکتا ہے، صرف استپالوں میں مریضوں کاعلاج مسئلے کا حل نہیں۔ اصل مقصد منشیات کا استعمال روکنا اوراس مکروہ دہندے کوجڑ سے اکھاڑنا ہے۔

کم عمر افراد کے منشیات کی جانب بڑھتے رحجان سے متعلق سوال پرڈاکٹر السریحہ کاکہنا تھا کہ "چھوٹی عمرمیں منشیات کی عادت ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تویہ ہےکہ منشیات فروشی کے دہندےمیں ملوث افراد اس کام کے لیے چھوٹی عمرکے افراد کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگرکسی خاندان میں ایک بڑی عمرکا شخص منشیات کے استعمال کا عادی تواس کے اثرات خاندان کے دیگرافراد بالخصوص کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔

ایک دوسرے سوال پرڈاکٹرسعد السریحہ کا کہناتھا کہ محکمہ صحت جلدہی منشیات کے دہندے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ایک ملک گیر پروگرام شروع کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت گھر گھرجا کر لوگوں کو مفت طبی امداد اور منشیات سے چھٹکارا دلانے کے لیے ادویات فراہم کی جائیں گی۔