.
.
.
.

امریکی حملے کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دیں گے: حامد کرزئی

افغان حکومت ماضی میں اسلام آباد کو مورد الزام ٹہرا چکی ہے

نشر في:

افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور پاکستان کے مابین عسکری تنازعہ جنم لیتا ہے تو کابل حکومت اسلام آباد کا ساتھ دے گی۔

صدر کرزئی نے یہ بات ایک نجی پاکستانی ٹیلی وژن کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ افغان صدر نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’خدانخواستہ اگر پاکستان اور امریکا کے مابین جنگ چھڑ گئی تو افغانستان، پاکستان کا ساتھ دے گا‘۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فی الحال پاکستان اور امریکا کے مابین اس طرح کی صورتحال پیدا ہونے کے امکانات خاصے کم ہیں اور دونوں ممالک عدم اعتماد کی فضاء کو بہتر کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان میں امریکی فوجی مداخلت کے امکان کو رد کر چکی ہیں۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان پر موجود امریکی دباؤ کے باعث کابل اور اسلام آباد کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں سابق صدر برہان الدین ربانی سمیت متعدد اہم شخصیات کی ہلاکت اور دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کی جاتی ہے۔

ایک موقع پر صدر کرزئی نے پاکستانی اعلیٰ قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’مہربانی کرکے ایسے کام کرنا اب بند کر دیں جن سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے اور جو اب آپ کی تکلیف کا سبب بن رہے ہیں‘۔ پاکستان کے نجی ٹیلی وژن جیو کو دیے گئے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں افغان صدر کا کہنا تھا، ’اگر امریکا نے پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستانی عوام کو ضرورت پڑی تو وہ افغانستان کو اپنے ساتھ پائیں گے‘۔

اٰفغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تشکیل دی گئی امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کی ہلاکت کے بعد صدر کرزئی نے کہا تھا کہ قیام امن کے لیے طالبان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، بلکہ اب اس حوالے سے براہ راست طور پر پاکستان سے بات کی جائے گی۔

کابل کے صدارتی محل سے جاری ایک حالیہ بیان میں صدر کرزئی نے پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ بیان کے مطابق، ’طالبان کی شوریٰ پاکستان میں ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ حقانی گروپ پاکستان میں ہے، اس لیے ہم نامعلوم طالبان کے بجائے واضح طور پر پاکستان میں موجود اپنے بھائیوں کے ساتھ مذاکرات پر اصرار کرتے ہیں‘۔

خبر رساں ادارے "اے ایف پی" کے مطابق بہت سے افغان قیام امن کے لیے پاکستان کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ افغان صدر کرزئی کی جانب سے جاری بیان میں افغانستان متعین غیر ملکی افواج کی متنازعہ کارروائیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور ان کے زیر انتظام جیلوں کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔