اسلام آباد:پارلیمینٹ ہاٶس کے باہر بے روزگار باپ کی خودسوزی
غُربت سے تنگ نوجوان کا انتہائی اقدام
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بے روزگار باپ نے غُربت سے تنگ آکر پارلیمنٹ ہاٶس کے سامنے خودسوزی کرلی ہے اور اسے تشویشناک حالت میں پمز اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔
خودسوزی کرنے والے نوجوان باپ کا نام راجہ خان ہے ،اس کی عمر پینتیس سال اور وہ دوبچوں کا باپ ہے۔اس کا تعلق صدر آصف علی زرداری کے آبائی صوبہ سندھ کے ضلع نوشیروفیروز ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نعیم اقبال نے بتایا ہے کہ نوجوان نے پارلیمینٹ شکے سامنے سے گذرنے والی شاہراہ دستور پر پہلے خود پر تیل انڈیلا اور پھر آگ لگادی۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے فوری طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) پہنچا دیا ہے۔
پمز کے برن یونٹ کے ڈاکٹر فرخ کمال نے بتایا ہے کہ راجہ خان کی حالت تشویش ناک ہے اور اسے انتہائی نگہداشت میں رکھا جارہا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ''اس کا نوے فی صد جسم جھلس چکا ہے اور ہم اس کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں''۔
پولیس ترجمان کے مطابق راجہ خان نے خود سوزی سے قبل ایک خط لکھا اوراسے اپنے کپڑوں کے ایک بیگ کے ساتھ رکھ دیا۔بیگ سے اس کا قومی شناختی کارڈ بھی برآمد ہواہے۔اس نے خط میں لکھا ہے کہ :''میں غُربت سے تنگ آچکا ہوں اور کوئی ملازمت اور رقم نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کررہا ہوں۔میں اپنی موت کا خود ذمے دارہوں کیونکہ میں اپنی مالی حالت سے مایوس ہوچکا ہوں''۔
اس بے روزگار نوجوان نے مزید لکھا ہے کہ ''اگر میں خودسوزی کے نتیجے میری موت واقع ہو جاتی ہے تو میری تدفین اسلام آباد ہی میں کی جائے اور حکومت کو میرے بچوں کی کفالت کرنی چاہیے''۔پولیس کا کہنا ہے کہ ''یہ شخص پارلیمینٹ ہاٶس کے سامنے اچانک نمودار ہوا تھا جب اسے روکا گیا تو اس نے کہا کہ ''میں مرنا چاہتا ہوں۔ پھر اس نے مٹی کے تیل کی بوتل نکالی اور خود پر انڈیل کر آگ لگالی''۔
واضح رہے کہ پاکستان میں آئے دن غُربت سے تنگ افراد خودکشیاں کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ایک بے روزگارشخص نے اپنے دوبچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی تھی لیکن پاکستان میں غربت کا شکار بے روزگار افراد کی خودکشیوں پر عوام یا حکومت کی جانب سے اس طرح کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جس طرح کا ردعمل دوسرے ممالک اور خاص طور پر عرب دنیا میں حالیہ مہینوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔
عرب ملک تیونس میں جنوری میں برپا ہونے والے انقلاب بہار کی شروعات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار مگر پھل بیچنے والے نوجوان محمد بوعزیزی کی خودسوزی سے ہی ہوئی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تیونس کے تئیس سال سے صدرچلے آرہے زین العابدین بن علی اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔
تیونس کے بعد مصر، لیبیا، یمن اور شام میں بھی عوامی احتجاجی تحریکیں برپا ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں مصر میں صدرحسنی مبارک کو تیس سال کی حکمرانی کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا اور لیبیا کے صدر معمر قذافی کو اقتدار کے ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ہیں جبکہ شامی صدر بشارالاسد اور یمنی صدر علی عبداللہ صالح اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں لیکن ان کے خلاف ہر نئے دن کے ساتھ عوام کے مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیں۔