.
.
.
.

ایران پر ہمہ نوع پابندیوں کے لیے امریکا میں بحث، اوباما متردد

جبیر قتل سازش اور ایمٹی پروگرام اہم عوامل

نشر في:

امریکا میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور ہمہ نوع پابندیاں عائد کرنے پر کانگریس اورصدراوباما کی انتظامیہ میں بحث جاری ہے۔ تاہم صدر براک اوباما کی جانب سے ایران پرمزید اقتصادی پابندیوں کے نفاذ پرکھلی حمایت کے بجائے تذبذ کا اظہارکیا جا رہا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ایران پرمزید پابندیوں کے نفاذ بارے امریکی کوششوں کے پس پردہ عوامل کا کھوج لگایا ہے۔ "العربیہ" کومعلوم ہوا ہے کہ ایران کا متنازعہ جوہری پروگرام اورامریکا میں سعودی سفیرعادل الجبیرکے قتل کی سازش میں ایرانی حکومت کے اہلکاروں کا براہ راست ملوث ہونا ایران کےخلاف پابندیوں کی نئی قسط کی تیاری کی بحث کے دوبنیادی اسباب ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال قبل سلامتی کونسل، یورپی یونین اور خود امریکا کی جانب سے ایران پرعائدپابندیوں کے باوجود تہران کے جوہری پروگرام پرکا کام بدستورجاری ہے، ان پابندیوں کا ایران پرکوئی نمایاں اثرنہیں پڑا۔ جس کے بعد امریکی انتظامیہ اور کانگریس میں یہ بحث شدت اختیارکرگئی ہے کہ ایران عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے متنازعہ ایٹمی پروگرام پرکام جاری رکھے ہوئے ہے، جومشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام پر کام رکوانے کے لیے"عالمی توانائی ایجنسی" آئی اے ای اے" کاایک ہنگامی اجلاس آئندہ ماہ نومبرمیں ہو رہا ہے۔ اجلاس میں ایک سال قبل تہران پرعائد پابندیوں کے باوجود جوہری پروگرام پرہونے والے کام کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی جائے گی۔ امکان یہ ظاہر کیا جا رہاہے کہ عالمی توانائی ایجنسی میں پیش کردہ رپورٹ میں یہ اشارہ دیا جائے گا کہ ایران نے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورنیم کی بڑی مقدارافزودہ کرلی ہے۔

امریکی انتظامیہ اورکانگریس کے حلقوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں زیربحث بعض معلومات "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کوبھی ملی ہیں۔ ان معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے گذشتہ چند ماہ کے عرصے میں کم سے کم 70 ٹن یورنیم افزودہ کیا ہے، جوکہ گذشتہ برس کی نسبت20 فی صد زیادہ ہے۔ ایران کے پاس یورنیم کی کل مقدار4500 ٹن بتائی جاتی ہے، اس میں150 ٹن یورنیم افزودگی کے مراحل میں جبکہ ایران کوایک ایٹم بم کی تیاری میں کل 200 ٹن یورنیم افزودہ کرنا ہے۔ یوں ایران جوہری بم بنانے کے اپنے ہدف کےبہت قریب پہنچ چکاہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کے پس منظرمیں آئندہ ماہ عالمی توانائی ایجنسی کے اجلاس کے بعد امریکا آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہتاہے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن نے سلامتی کونسل، مغربی اتحادیوں اور مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کے ساتھ بھی رابطے بڑھا دیے ہیں تاکہ تہران کےخلاف موثراقدامات کیے جاسکیں۔

خود امریکی انتظامیہ میں ایران کے خلاف کسی سخت کارروائی کے لیے قدامت پسندوں اور لبرل حلقوں میں الگ الگ آراء پائی جاتی ہیں۔ شدت پسندوں کا خیال ہے کہ ایران پرہمہ نوع پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، جن میں ایرانی مرکزی بنک کے ساتھ لین دین، ایران کی تیل کی درآمدات پرمکمل پابندی، پاسداران انقلاب پرپابندی اورایران سے ہرقسم کے اسلحے کی خریدو فروخت پرپابندی شامل ہے۔

ایرانی تیل کی درآمدات اورپاسداران انقلاب سے ڈیل پرپہلے بھی پابندیاں عائد ہیں تاہم تہران کے مرکزی بنک کو پابندیوں کے دائرے میں لانے میں صدراوباما کی انتظامیہ ہی میں بعض افراد کی مخالفت کا سامنا ہے۔ خود اوباما بھی اس سلسلے میں تذبذب میں ہیں اور کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے گریزاں ہیں۔



بُش پالیسی کی تائید، اوباما پر تنقید

امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل میں ایرانی امور کے ایک سابق عہدیدار "مائیکل سنگھ" نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے صدر براک اوباما کی ایران بارے پالیسی پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ "جن طریقوں سے صدر اوباما ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روک رہے ہیں، وہ سرا سر مذاق ہے۔

موجودہ امریکی حکومت نے ایران کے جوہری پروگرام پر کام روکنے کے لیے صرف زبانی کلامی اقدامات کیے ہیں۔ سب سے بڑی ناکامی اوباما انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ نرم رویے کے ساتھ بات چیت ہے، جس کے باعث ایرانی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے۔

مسٹر سنگھ کہہ رہے تھے کہ اوباما انتظامیہ نے ایران کے حوالے سے اڑھائی برس ضائع کرکے تہران کو ایٹم بم بنانے کے اور قریب کر دیا ہے۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں ایران جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرتا رہا ہے، موجودہ انتظامیہ نے ان مشکلات کو کم کر کے تہران کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ اگر امریکی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کو رول بیک کرانے میں سنجیدہ ہے تو اسے سابق صدر جارج بش کی پالیسی کو اپنے لیے ایک نمونہ سمجھنا ہو گا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکی تجزیہ نگارکا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں تعینات سعودی سفیر کے قتل کی سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی ہے، اس نے امریکا کے ایران بارے جمود کی پالیسی کو کسی حد تک توڑا ہے لیکن اوباما انتظامیہ میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ ایران کو کوئی سخت تنبیہ کر سکے۔

مائیکل سنگھ نے کہا کہ ایران کے لیے اگلے دو تین سال نہایت اہم ہیں اور اس نے یورنیم کی مزید بھاری مقدار افزودہ کرنے کی کوششیں جاری رکھنی ہیں۔ ایسے میں امریکا کو اپنے مغربی اتحادیوں کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے تا کہ غور کیا جا سکے کہ ایران کو 2015ء میں ایک ایٹمی قوت بننے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے اگر"آہنی ہاتھوں" یعنی طاقت کے استعمال کا آپشن استعمال کرنا پڑے تو اس سے بھی گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

بُش نے ایران کو ڈرائے رکھا

ایک دوسرے سوال کے جواب میں ایرانی امور کے ماہر اور سابق حکومتی عہدیدار مائیکل سنگھ نے کہا کہ ایران کے بارے میں سابق صدر جارج بش کی پالیسی بہترین اور موثر ثابت ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنے مغربی ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کرایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جس سے ایران خائف دکھائی دیتا تھا۔ ایران کو دباؤ میں رکھنے کے لیے بش انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مسلسل جنگی مشقیں بھی جاری رکھیں اور ایران کو یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ واشنگٹن، تہران کےخلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

اس کے مقابلے میں موجودہ امریکی حکومت نے صرف زبانی طور پر ایران کےخلاف اقدامات کیے ہیں، جس کا تہران پر کوئی خاطرخواہ اثر نہیں پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں جارج بش اور براک اوباما کے ایران بارے کردار کا تقابل کرتا ہوں تو ماضی کی نسبت ایران کو زیادہ مطئمن اور اپنے جوہری پروگرام میں زیادہ منہمک اور متحرک پاتا ہوں، جو امریکی پالیسی کی ناکامی کا بین ثبوت ہے۔