.
.
.
.

شہزادہ خالد کا اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کے بدلے ایک ملین ڈالر کا اعلان

شیخ عوض القرنی کے بعد

نشر في:

سعودی عرب کے ایک ممتاز عالم دین شیخ عوض القرنی کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کے بدلے میں ایک لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم مقرر کرنے کے بعد سعودی شاہی خاندان کے شہزادہ خالد بن طلال بھی میدان میں آ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنانے کے لیے نو لاکھ ڈالرز کے انعام کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد یہ انعامی رقم ایک ملین ڈالرز تک جا پہنچی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ"کے مطابق سعودی عرب کے ارب پتی خاندان کے چشم وچراغ شہزادہ خالد بن طلال نے یہودی فوجیوں کے اغواء کے لیے اپنی جانب سے انعامی رقم کا اعلان شیخ عوض القرنی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا ہے۔ یہودی فوجیوں کے اغواء کے لیے انعامی رقم مقرر کرنے پر اسرائیلی میں ان کےخلاف ایک شر انگیز مہم شروع کی گئی ہے۔

شہزادہ خالد بن طلال نے سعودی عرب کے ایک نجی ٹی وی "دلیل" سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہودی فوجیوں کے اغواء کے بدلے میں شیخ عوض القرنی نے ایک لاکھ ڈالر رکھے تھے، میں نے اس رقم میں نو لاکھ ڈالرز کا اضافہ کر کے یہ رقم ایک ملین ڈالر کر دی ہے۔ یہ میں نے شیخ عوض کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا ہے کیونکہ اسرائیلی "دہشت گردوں" کیجانب سے شیخ عوض القرنی کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں"۔

ارب پتی سعودی شہزادہ ولید بن طلال کے بڑے بھائی خالد بن طلال نے کہا کہ "شیخ القرنی نے ایک یہودی فوجی کے اغواء کے بدلے میں ایک لاکھ ڈالرز انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے جواب میں یہودیوں نے ان کے قتل کے لیے ایک ملین ڈالرز کی رقم مقرر کی ہے۔ میں شیخ عوض القرنی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک صہیونی فوجی کے اغواء کے بدلے میں نے نو لاکھ ڈالرز کا اضافہ کر کے یہ انعامی رقم بھی ایک ملین ڈالرز کر دی ہے"۔

شیخ القرنی کےخلاف شر انگیز مہم

ادھر ایک ہفتہ پیشتر شیخ عوض القرنی کی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی کو یرغمال بنانے والے کے لیے ایک لاکھ ڈالرز کے انعام مقرر کرنے پر اسرائیل میں ان کے خلاف ایک شر انگیز مہم شروع کی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور بعض دیگر اخباری ویب سائٹس پر شیخ القرنی کے انعام پر یہودیوں میں سخت برہمی پائی جا رہی ہے۔ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے یہودیوں نے شیخ القرنی کو قتل دھمکیاں بھی دی ہیں۔ یہودیوں نے شیخ القرنی کا "فیس بک" پر تخلیق کردہ صفحہ بند نہ کرنے پر فیس بک کی انتظامیہ کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عالم دین نے اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کے بدلے انعامی رقم اس وقت مقرر کی تھی جب انتہا پسند یہودیوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل کے تحت رہا ہونے والے فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کا اعلان کیا تھا۔

یہودی آباد کار بالخصوص متشدد نظریات کے حامل یہودی فلسطییوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے سمجھوتے کے تحت ایسے سینکڑوں فلسطینیوں کو بھی رہا کیا ہے جنہیں طویل المدت اور عمر قید جیسی سزاؤں کا سامنا تھا اور یہ لوگ کئی کئی درجن یہودیوں کے قتل میں براہ راست ملوث تھے۔ اسرائیل نے انہیں زندہ رہا کر کے مقتولین کے لواحقین کو دکھ پہنچایا ہے۔ اس کا ازالہ ان فلسطینیوں کو قتل کرکے کیا جا سکتاہے۔