.
.
.
.

"خمینی مخالفین کو پھانسی پر لٹکاتےتھے، مَیں صرف جیل بھیجتا ہوں" خامنہ ای

پھانسی کی سزاؤں میں ایران دوسرے نمبر پر

نشر في:

ایران میں اصلاح پسندوں کے زیر اہتمام ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک کے سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای اور سابق چیف جسٹس آیت اللہ موسوی اردبیلی کے درمیان ایک طویل مُکالمہ ہوا تھا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی اس بات چیت میں اپوزیشن اور اصلاح پسندوں کی جانب سے صدارتی انتخابات مسترد کیے جانےاور اس کے جواب میں حکومت کی طرف سے انہیں بزور دبانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اصلاح پسند ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے اور بانی انقلاب امام خمینی کے دورحکومت میں اپوزیشن کے ساتھ سلوک کا موازنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ "امام خمینی اپنے مخالفین کو سیدھا پھانسی پر لٹکاتے تھے جبکہ میں صرف جیل بھیجتا ہوں"۔

ایران میں اصلاح پسندوں کی ترجمان فارسی زبان کی نیوز ویب سائٹ"جرس" نے ایک رپورٹ میں ذرائع کےحوالے سے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار نو میں صدارتی انتخابات کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں کے دوران مذہبی دینی مرکز "قُم" کے ایک ممتاز مذہبی لیڈر آیت اللہ موسوی کی خامنہ ای کے ساتھ طویل مُلاقات ہوئی۔

ملاقات میں آیت اللہ موسوی نے سپریم لیڈر سے سیاسی قیدیوں کی رہائی پر زور دیا۔ اس پر ایرانی مرشد اعلیٰ نے ان الفاظ میں جواب دیا تھا: "آیت اللہ خمینی کے دورحکومت میں آپ ملک کے چیف جسٹس تھے۔ آپ خود بھی امام خمینی کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مخالفین کی پھانسی کی سزاؤں کی منظوری دیتے تھے۔ ان کے مقابلے میں مَیں آج مخالفین کو صرف جیل بھجواتا ہوں اور آپ اس پر بھی اعتراض کرتے ہیں"۔

اپوزیشن ذرائع بتاتے ہیں کہ سنہ 1988ء میں امام خمینی نے اُن تمام سیاسی مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار دینے کا حکم دیا تھا جنہوں نے دوران حراست اپنا موقف تبدیل کرنے سے انکار کیا تھا، چنانچہ سنہ 88ء کے رمضان المبارک میں 4500 سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو پھانسی دے دی گئی۔ اس پر ولایت فقیہ کے نائب مرشد اعلیٰ آیت اللہ حسین علی منتظری نے احتجاجا استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کے بعد حکومت نے انہیں بھی طویل عرصے تک نظر بند کیے رکھا اور ان کی نظر بندی اس وقت ختم ہوئی جب امام خمینی خود انتقال کر گئے۔

اپوزیشن کے کچھ ذرائع آیت اللہ خامنہ ای کی جانب اسی طرح کا ایک بیان سابق اصلاح پسند صدر محمد خاتمی کے احتجاج پر بھی منسوب کرتے ہیں۔ جب ایرانی سیکیورٹی فورسز نے تہران یونیورسٹی کے طلباء پر وحشیانہ تشدد کیا تو صدرخاتمی نے اس پرسخت صدائے احتجاج بلند کی تھی۔ مُرشد اعلیٰ نے صدرکے احتجاج پر بھی کہا تھا کہ وہ مخالفین کو قتل تو نہیں کراتے۔ ان پر تشدد کرنے اور انہیں جیل بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ بانی انقلاب امام خمینی تو مخالفین کو پھانسی پر لٹکانے کا حکم دیتے تھے۔

میڈیا ذرائع بتاتے ہیں کہ ملک کی طاقتور شخصیت ولایات فقیہ کے سربراہ آیت اللہ علی خامنہ نے مختلف مواقع پر اپنا اور امام خمینی کا اپوزیشن کے ساتھ سلوک کا تقابل کیا ہے۔ وہیں انہوں کئی مواقع پر کھلے عام یہ دھمکی دی ہے کہ "ان کا قلم کسی بھی وقت کسی کا بھی سر قلم کرنے کا حکم لکھ سکتا ہے"۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ایران میں یومیہ 10 افراد کی موت کی سزاؤں پرعمل درآمد کرتے ہوئے انہیں قتل کر دیا جاتا ہے۔ گذشتہ ایک برس کے دوران 3600 افراد کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے ایران موت کی سزاؤں پر عمل کرنے والا چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔