.
.
.
.

حاجیوں کے تحفظ و سلامتی کی خاطر ہر ممکن وسائل بروئے کار لائیں گے: سعودی ولی عہد

ایران کے ساتھ سفیر کے قتل کی سازش پر مفاہمت مسترد

نشر في:

سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے واشنگٹن میں سعودی سفیر کو قتل کرنے کی سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے بعد اس کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

سعودی ولی عہد اور وزیر داخلہ نے یہ بات مکہ المکرمہ میں حج کے انتظامات کا جائزہ لینے کے موقع پر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے ''واضح کیا کہ سفیر کو قتل کرنے کی سازش منظر عام پر آنے کے بعد ایران کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا اور نہ اس کی ضرورت ہے بلکہ ہم کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کو تیار ہیں''۔

شہزادہ نایف جو کہ مملکت کی سپریم حج کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا تھا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ حج بیت اللہ کے لئے آنے والے موسم حج کے تقدس کا خاص خیال رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا: "ہم ہر طرح کے حالات کے لئے تیار ہیں، ہم کسی بھی ایسی ویسی صورتحال کو تمام طریقوں سے روکنے کی کوشش کریں گے۔

"سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ معتمرین اور حجاج کرام کی خدمت ہمارے لئے بطور ملک، عوام اور حکمران باعث شرف ہے۔ نیوز کانفرنس سے پہلے انہوں نے امسال حج کے سلسلے میں ترتیب دیئے گئے روڈ میپ پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے متعدد مقامات کا فیلڈ وزٹ کیا۔ جائزہ دورے کے بعد انہوں نے میدان عرفات کے خصوصی ہنگامی مرکز میں حج کے سلسلے میں سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔

"سعودی عرب ادائی حج اور مسجد نبوی کی زیارت کے سلسلے میں مسلمانوں کی خدمت کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے۔ دونوں مقامات مقدسہ کی خدمت انتہائی عزت و شرف کی بات ہے۔ اس میں ہمارا کوئی کمال یا احسان نہیں، ہم اللہ اور دنیا بھر کے آئے ہوئے مسلمانوں کی رضا چاہتے ہیں۔"

مکہ المکرمہ ریجن کے سیکرٹری اور حج کی تیاری اور عملدرآمد کمیٹیوں کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ الخضیری نے اس موقع پر بتایا کہ مملکت نے بیت الحرام کے حج کو آنے والوں کی خدمات کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ہم نے تمام مشکلات حج بیت اللہ کی ادائی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں دور کر دی ہیں تاکہ حجاج بہ آسانی مناسک ادا کر سکیں۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر الخضیری نے بتایا کہ ابتک مکہ پہنچنے والے حاجیوں کی تعداد سولہ لاکھ ہو چکی ہے۔ تمام عازمین حجاج کی صحت اچھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل نے تمام مقدس مقامات کا بذات خود دورہ کر کے حج کے سلسلے میں کی جانے والی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

حاجیوں کو ایک سے دوسری جگہ لیجانے کی سہولیات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر الخضیری نے کہا کہ انہیں منی لانے کے تمام انتظامات پورے کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امسال حج ٹرین اپنی پوری استعداد کے ساتھ حجاج کی خدمت کرے گی۔ نیز موسم کی مناسبت سے بڑی بڑی ائرکنڈیشنڈ بسوں کا وسیع فلیٹ حاجیوں کی خدمت کے لئے تیار و موجود ہے۔

سال ابتک حج کے موقع پر کسی وبائی یا پریشان کن مرض کے پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے بتایا کہ ان کی وزارت نے اس سال حج کے لئے پہلی بار ڈاکٹروں کی ایک بڑی ٹیم کو حجاج کی خدمت اور علاج کے لئے تعنیات کیا ہے۔

امریکا سے معافی کا ایرانی مطالبہ

درایں اثناء ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمن پرست نے منگل ہی کو اس سازش کے ایران پر الزامات کے بعد امریکا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرنا کے مطابق انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''امریکیوں کو خارجہ پالیسی کی غلط سمت میں جانے کے بجائے اپنے راستے کو درست کرنا چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کو ایک خط بھیج دیا گیا ہے جس میں اس سے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے جو الزامات عاید کیے ہیں ، وہ بالکل غلط ہیں۔ترجمان نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے یہ خط امریکی حکام کے خط کے جواب میں بھیجا گیا ہے جس میں امریکا سے سازش سے متعلق جھوٹی الزام تراشی پر علانیہ معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی حکام نے گذشتہ ماہ واشنگٹن میں اسرائیلی اور سعودی سفارت خانوں کو بموں سے اڑانے اور واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیر کو ایک ریستوراں میں بم دھماکے کے ذریعے قتل کرنے کی سازش کا انکشاف کیا تھا اور اس کے منظرعام پر آنے کے بعد پانچ ایرانیوں کے اثاثے منجمد کردیے تھے۔

اس مبینہ سازش کے مرکزی کردار ایرانی نژاد امریکی شہری منصور ارباب سئیر نے گذشتہ ہفتے نیویارک کی عدالت میں ایک اپیل دائر کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ قصور وار نہیں ہیں۔ منصور ارباب امریکا کے شہر ٹیکساس میں ایک عرصے سے رہ رہے تھے جہاں وہ پرانی کاروں کے ایک سیلزمین کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس سازش کے دوسرے مرکزی کردار غلام شکوری پاسداران انقلاب ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار بتائے جاتے ہیں۔ وہ امریکا سے بھاگ کر ایران آ چکے ہیں۔

چھپن سالہ منصور ارباب سئیر اورغلام شکوری پر بیس اکتوبر کو فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس میں کہا گیا ہے کہ ان دونوں نے واشنگٹن میں متعین امریکی سفیر کو قتل کرنے کی سازش تیارکی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈاٶن پے منٹ کے طور پر ایک لاکھ امریکی ڈالرز کا بندوبست کیا تھا۔ان دونوں ملزمان پرسعودی عرب کے سفیر کے خلاف وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے جس سے دوسرے افراد بھی خطرات سے دوچار ہوجاتے اور زخمی ہوسکتے تھے۔

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد اس سازش کے حوالے سے امریکی الزامات کو مسترد کرچکے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ان الزامات کی تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے یہ سازش گھڑی ہے جبکہ ایرانی وزیرسراغرسانی حیدر مصلحی نے کہا ہے کہ امریکی الزامات اتنے بودے ہیں کہ ان ہر یقین کرنے کی ضرورت نہیں.ایرانی وزارت خارجہ نے اس سازش کو ایک کامیڈی شو قراردے کر مسترد کردیا تھا۔

دوسری جانب امریکی حکام یہ خیال ظاہر کرچکے ہیں کہ القدس فورس کے سربراہ ممکنہ طورپر واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیرکے قتل کی سازش سے آگاہ تھے۔ امریکی محکمہ انصاف اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق اس سازش کا سراغ القدس فورس سے تعلق رکھنے والے حکام سے جاکرملتا ہے۔پاسداران انقلاب ایران کا یہ خصوصی یونٹ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو براہ راست جواب دہ ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے دائرہ کردہ فوجداری درخواست کے مطابق منصور ارباب سئیر نے مئی 2011ء میں امریکا کے ایک خفیہ ایجنٹ کو مبینہ طورپر بم دھماکے کے لیے رقم ادا کی تھی۔اس ایجنٹ نے میکسیکو کے منشیات کے ایک اسمگلر کا روپ دھار رکھا تھا اور وہ بعد میں امریکی خفیہ اداروں کا مخبر نکلا تھا۔

ان کے بہ قول ایران سے باہر ایک غیر ملکی بنک سے امریکا میں کرائے کے اس مبینہ قاتل کے اکاٶنٹ میں ایک لاکھ ڈالرز کے لگ بھگ رقم بھیجی گئی تھی۔امریکی حکام نے ارباب سئیر پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ اس نے القدس فورس کے اعلیٰ افسر اور اپنے کزن عبدالرضا شہلائی سے کہا تھا کہ وہ منشیات کے ایک اسمگلر کو بھرتی کریں کیونکہ منشیات فروشوں کے گینگ دوسروں کو قتل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 1980ء کے عشرے کے اوائل سے سفارتی تعلقات منقطع ہیں جس کی وجہ سے تہران میں سوئس سفارت خانہ امریکی مفادات کی نگرانی کا ذمے دار ہے جبکہ امریکا میں پاکستانی سفارت خانہ ایرانی مفادات کی نگرانی کا ذمے دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سوئس اور پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے ہی خط وکتابت ہوتی ہے۔