.
.
.
.

شہزادہ مقرن کو جنازے میں دھکا غلطی سے لگا: شیخ حمد بن آل ثانی

ویڈیو کلپ 10 لاکھ لوگوں نے انٹرنیٹ پر دیکھا

نشر في:

خلیجی ریاست قطر کے وزیر مملکت اور امیر قطر کی مقرب ترین شخصیت سمجھے جانے والے الشیخ حمد بن سعود آل عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ سعودی عرب کے سابق ولی عہد کی نماز جنازہ میں ھجوم کے باعث ان کے ہاتھوں سعودی عرب کے جنرل انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو دھکا لگا تھا، تاہم یہ فعل دانستہ سرزد نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ میں ھجوم اور اس دوران شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو لگنے والے دھکے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ "یو ٹیوب" پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو کلپ کو اب تک کم سے کم ایک ملین افراد دیکھ چکے ہیں۔

شیخ حمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ کے دوران لوگوں کے ھجوم کی وجہ سے راستہ تنگ تھا اور وہ ھجوم سے باہر نکلنے کے لیے لوگوں کے درمیان سے ایک تنگ راستے کے ذریعے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھاکہ ان کے آگے شہزادہ مقرن بھی جا رہے ہیں۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ وہ شہزادہ مقرن کو شکل سے نہیں پہچانتےتھے، البتہ انہوں نے شہزادہ مقرن کا نام سن رکھا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے شیخ حمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ وہ"mbc" ایف ایم ریڈیو کو انٹرویو میں بھی یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ انٹرنیٹ پر دکھائی جانے والی ویڈیو تو صحیح ہے لیکن اس میں میری وجہ سے شہزادہ مقرن کو لگنے والا دھکا دانستہ نہیں۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی کیونکہ اس سے قبل میں نے انہیں دیکھا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور قطرکا حکمران خاندان ایک ہی خاندان ہے، ہمیں ایک دوسرےکے حوالے کسی قسم کی چشمک نہیں بلکہ ہم ایک ہی وقت میں ایک دوسرے بہی خواہ دوست بھی ہیں اور غمگسار بھائی بھی ہیں۔

انٹرنیٹ پر ویڈیو کی تشہیر

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق گذشتہ ہفتے سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ان کی ریاض میں نماز جنازہ کے دوران لی گئی ویڈیو کی بڑی تعداد انٹرنیٹ پر موجود ہے تاہم ان میں دو ویڈیو کلپ سب سے زیادہ مشہور ہوئے ہیں۔ دونوں میں قطری وزیر مُملکت کی وجہ سے سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو دھکا لگتے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ویڈیو کلپ کو یو ٹیوپ پر کم سے کم دس لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے۔

اس کے علاوہ بڑی تعداد میں یہ ویڈیو کلپ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹ "ٹیوٹر" اور"فیس بک" پر بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اس ویڈیو پر عرب شہریوں نے بڑے پیمانے پر تبصرے بھی کیے ہیں۔

اسی طرح کے ایک دوسرے ویڈیو کلپ کو کوئی چار لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔ قبل ازیں خود شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے العربیہ ٹی وی کے پروگرام"فیس دی پریس" میں صحافی داؤدالشریان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مُمکن ہے جس شخص کے باعث انہیں دھکا لگا وہ انہیں نہ جانتا ہو اور لاعلمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ شخص مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا تھا۔ وہاں پر لوگوں کی بھیڑ تھی اور اتنی زیادہ بھیڑ میں اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔

میڈیا پر تنقید

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے شیخ حمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے یو ٹیوب اور دیگر ویب سائٹس پر موجود اس ویڈیو کلپ پر کیے گئے تبصروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کلپ کو اس طرح پھیلایا اور اس کی تشہیر سے ایسے لگ رہا کہ گویا میں نے ایسا دانستہ طور پر کیا ہے حالانکہ میں پوری دیانتداری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ میری غیر دانستہ غلطی تھی۔

اس ویڈیو پر کیے گئے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ سعوی عرب اور قطر کے حکمران خاندان میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میڈیا یا انٹرنیٹ کی ویب سائٹس پر لوگوں کے تبصروں سے ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ سعودی خاندان بھی قطر کے حکمران خاندان سے اپنے دیرینہ تعلقات کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ لہٰذا کوئی بھی میڈیا اور شرپ سند عناصر کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز جو ان کی وجہ سے متاثر ہوئے انہوں نے کوئی ایک بات نہیں کہی اور جن لوگوں کا اس واقعے سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں وہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

شہزادہ مقرن سے معذرت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو انٹرنٹ پر لوگوں کی جانب سے معذرت کرنے کے مطالبے آ رہے ہیں۔ وہ بتا چکے ہیں کہ شہزادہ مقرن کو دھکا ھجوم کی وجہ سے لگا، جس میں ان کی دانستہ غلطی نہیں تھی، اسکے باوجود اگر شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ان سے معذرت کا کہیں گے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔