سائبر جنگ میں اہم آن لائن سسٹمز کو نقصان نہیں پہنچا:اسرائیل
سعودی ''سائبر مجاہد'' کا اسرائیل پر ''بھرپور''حملوں کا عزم
اسرائیل کی داخلی امور کی ذمے دار خفیہ ایجنسی شین بیت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ سائبر جنگ کے دوران صہیونی ریاست کے اہم آن لائن سسٹمز کو نقصان نہیں پہنچا ہے جبکہ سعودی ہیکر نے مزید بھرپور حملوں کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
شین بیت کی جانب سے یہ بیان تل ابیب اسٹاک ایکسچینج ،اسرائیلی قومی فضائی کمپنی ای ایل اے ایل ائیر لائنز اور تین بنکوں کی ویب سائٹس پر سوموار کو ہیکروں کے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سعودی ہیکر گذشتہ روز اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج کی ویب سائٹ میں نقب لگانے میں کامیاب ہوگئے تھے جس کے بعد اس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا۔البتہ اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی خرید وفروخت کا کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا تھا۔ سعودی اور اسرائیلی ہیکروں کے درمیان ایک دوسرے کی ویب سائٹس ہیک کرنے کا مقابلہ 3جنوری کو شروع ہوا تھا۔
ایک اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ کی رپورٹ کے مطابق خود کو فلسطین کے ہمدرد کہلانے والے سعودی ہیکر ابھی تک اسرائیل کے تزویراتی اہمیت کے حامل انفراسٹرکچر میں نقب لگانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔نجی یا کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کی ویب سائٹس کے برعکس سرکاری ویب سائٹس کی سکیورٹی بہت سخت ہے،اس لیے ان تک رسائی ممکن نہیں۔
درایں اثناء ''آکس عمر'' نامی ایک سعودی ہیکر نے وائی نیٹ نیوز کو ایک ای میل بھیجی ہے جس میں اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ''اسرائیل پر مزید سخت اور بھرپور حملے کیے جائیں گے''۔
اس ''سائبر مجاہد'' کا کہنا تھا کہ ''میں کسی بھی ممکن طریقے سے اسرائیل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوں۔ میں انھیں سائبر دنیا میں نقصان پہنچا سکتا ہوں ،اس لیے میں اس دنیا کے لیے جوکچھ ہوسکا ،کروں گا۔میں اسرائیلی حکام کو چیختا چلاتا چھوڑنا چاہتا ہوں''۔
تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ سائبر حملوں میں ملک کو فوری طور پر کوئی سکیورٹی خطرہ درپیش نہیں ہے۔اسرائیل کے نائب وزیرخارجہ ڈینی ایلون نے اپنے فیس بُک صفحے پر لکھا ہے کہ ''میں اس پلیٹ فارم کو ایک واضح پیغام دینے کے لیے استعمال کررہا ہوں اور وہ یہ کہ وہ ہمیں انٹرنیٹ یا کسی اور فورم پر خاموش نہیں کرسکیں گے۔
اسرائیل کے فرسٹ انٹرنیشنل بنک اور اس کے دوذیلی بنکوں مساد اور اتضرہاہیال نے اطلاع دی تھی کہ ان کی مارکیٹنگ سائٹس کو ہیک کرلیا گیا ہے لیکن ان سائٹس کی جانب سے صارفین کو آن لائن مہیا کی جانے والی سروسز پر کچھ اثر نہیں پڑا ہے۔اسرائیل کے تیسرے بڑے بنک ڈسکاٶنٹ کا کہنا ہے کہ اس پر ابھی تک سائبر حملہ نہیں کیا گیا لیکن وہ حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی ویب سائٹس تک غیر ملکی رسائی کو بند کررہا ہے۔
وائی نیٹ نیوز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ اسرائیل کے بڑے بنک اور مالیاتی ادارے بیرون ملک مقیم اپنے صارفین کے لیے آن لائن رسائی پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں۔اسرائیل کے پبلک ڈپلومیسی اور بیرون ملک مقیم اسرائیلیوں کے امور کے وزیر یولی ایڈلسٹین کا کہناہے کہ ''سائبر حملوں میں اضافہ اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے حقیقی خطرہ بن سکتا ہے''۔
انھوں نے کہا کہ آج تو وہ کریڈٹ کارڈ کمپنیوں کی ویب سائٹس کو ہیک کررہے ہیں اور کل کلاں وہ سکیورٹی معلومات بھی حاصل کرلیں گے اور ڈھانچے کو نقصان پہنچائیں گے۔''اسرائیل مخالف تشدد کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جن کا مقصد اسرائیل کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے''۔
دوسری جانب غزہ کی حکمران فلسطینی جماعت حماس نے اسرائیلی ویب سائٹس پر حملوں کا خیرمقدم کیا ہے۔حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک بیان میں کہا کہ ''اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کا یہ ایک نیا میدان ہے۔ہم عرب نوجوانوں پرزوردیتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے الیکٹرانک جنگ میں حصہ ڈالنے کے لیے اپنے اپنے طریقے ایجاد کریں''۔