مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد سلمان رشدی کا دورہ بھارت منسوخ

متنازعہ مصنف ویڈیو لنک کے ذریعے ادبی میلے میں تقریر کریں گے

نشر في:

شاتم رسول، متنازعہ مصنف سلمان رشدی نے بھارت میں مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد ایک ادبی میلے میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سلمان رشدی بھارت کے شہر جے پور میں منعقد ہونے والے ایشیا کے سب سے بڑے ادبی میلے میں شرکت کے لیے آنے والے تھے لیکن بھارتی مسلمان ان کے خلاف مظاہرے کررہے تھے اور وہ اس فتنہ پرور مصنف کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔

بھارت کے مسلم لیڈروں نے ادبی میلے کے منتظمین کی جانب سے سلمان رشدی کی عدم شرکت کے اعلان کے بعد جے پور میں جمعہ کو طے شدہ احتجاجی مظاہرے کو منسوخ کردیا ہے۔منتظمین نے سلمان رشدی سے کہا تھا کہ وہ مسلمانوں کے احتجاج کے پیش نظر اب بھارت آنے کی زحمت گوارا نہ کریں۔

بھارت کے مشہور تاریخی علمی ادارے دارالعلوم دیوبند کے مہتم اعلیٰ( وائس چانسلر) نے گذشتہ ہفتے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سلمان رشدی کو ملک میں داخل ہونے سے روکا جائے کیونکہ اس نے اپنی شرانگیز متنازعہ تحریروں کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کے دل دکھائے ہیں۔واضح رہے کہ پینسٹھ سالہ سلمان رشدی کو بھارت آنے کے لیے کسی ویزے کی ضرورت نہیں تھی۔

اب ادبی میلے کے ڈائریکٹر ولیم ڈیلریمپل کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی میلے میں شرکت نہیں کریں گے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے میلے کی تقاریب میں حصہ لیں گے۔اس متنازعہ مصنف نے پانچ روزہ جے پور ادبی میلے کے پہلے روز تقریر کرنا تھی لیکن منتظمین نے گذشتہ ہفتے ان کا نام مقررین کی فہرست سے خارج کردیا تھا۔

یاد رہے کہ سلمان رشدی نے 1988ء میں ''شیطانی آیات'' کے نام سے متنازعہ ناول لکھا تھا جس میں شامل توہین آمیز مواد کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ بھارت اور پاکستان سمیت متعدد مسلم ممالک میں اس متنازعہ کتاب پر پابندی عاید ہے۔ایرانی انقلاب کے بانی مرحوم آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اس ناول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر شاتم رسول سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ دیا تھا اور ایران نے ان کے انتقال کے بعد بھی اس فتویٰ کو واپس نہیں لیا۔

سلمان رشدی کے ادبی مقام کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ اوسط درجے کے لکھاری ہیں لیکن اس کے باوجود برطانوی ملکہ الزبتھ نے انھیں سر کے خطاب سے نوازا تھا اور مسلمانوں میں اشتعال پھیلانے کے صلے میں انھیں اور بھی متعدد مغربی ممالک اور اداروں کی جانب سے اعزازات دیے جاچکے ہیں۔