وزیر اعظم پاکستان پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ
سزا کی صورت میں عہدے سے برخاستگی و 6 ماہ قید
پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم 13 فروری کو عائد کرے گی۔ عدالت نے یہ حکم جمعرات کو سماعت کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں دیا ہے۔
وکیل صفائی اعتزاز احسن نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔
این آر او عملدرآمد مقدمے میں سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم پاکستان کو توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا جس کے بعد وہ پہلے بھی عدالت میں حاضر بھی ہوئے تھے۔
اس سے قبل جمعرات کو ہی اس معاملے کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر عدالت حکم دے گی تو سوئس حکام کو صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے سلسلے میں خط لکھ دیا جائے گا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو بارہا کہا جا چکا ہے کہ خط لکھا جائے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ عدالت کی عزت بچائی جائے کیونکہ اگر یہ خط لکھا جائے اور سوئس عدالتوں میں کوئی کارروائی نہ ہو تو پھر عدالت کی عزت پر بھی فرق آئے گا جس پر بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ’آپ یہ چاہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے لوگوں کے سامنے ہم بے عزت نہ ہوں جبکہ اپنے لوگوں کے سامنے بے شک بے عزت ہوتے رہیں‘۔
بینچ کے سربراہ جسٹس ناصرالملک کا کہنا تھا کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ اگر حکومت سوئس حکام کو خط لکھتی ہے تو سوئس عدالتوں میں اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔ بہرحال سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ کا فیصلہ اس پر واضح ہے کہ این آر او سے مستفید ہونے والے افراد کے خلاف اس وقت سے مقدمات بحال کیے جائیں جب یہ لاگو ہوا تھا۔
مروجہ قوانین کے تحت اگر وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا گیا تو پارلیمان کی رکنیت سے معطلی کے علاوہ انھیں چھ ماہ کی قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔