مصری مشاورتی کونسل کی سوزان مبارک کو جیل بھجوانے کی سفارش

دینی جماعتوں کی سابق خاتون اول کو جیل ڈالنے کی حمایت

نشر في:

مصر کی مشاورتی کونسل نے سابق معزول صدر حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک اور سابق حکومت کے سرکاری افسروں کو برطرف کر کے انہیں جیل بھجینے کا حکم دیا ہے۔ مشاورتی کونسل کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ سابق حکومت کے زیر حراست ارکان کو "طرہ" جیل سے ملک کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جائے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق مشاورتی کونسل کے نائب چیئرمین سامح عاشور کا کہنا ہے کہ اگر سوزان مبارک کےخلاف حالیہ دنوں اور ماضی میں پیش آنے والے بعض پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے کا ٹھوس ثبوت موجود ہے تو انہیں فوری طوری طور پر حراست میں لے کر ان اسے تفتیش کرنی چاہیے۔

خیال رہے کہ سابق مصری صدر حسنی مبارک کی اہلیہ گذشتہ ایک برس سے سیاحتی مقام شرم الشیخ میں ایک گھر میں نظر بند ہیں۔ گذشتہ ہفتے ملک میں فٹبال کی دو ٹیموں کے مابین ہونے والے خون ریز واقعات کے پس پردہ سازش میں سوزان مبارک اور جمال مبارک کے بعض حامیوں کے نام بتائے جاتے ہیں جو انقلاب کے باجود کسی نہ کسی شکل میں اعلیٰٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ مشاورتی کونسل نے سوزان مبارک کی حراست کی سفارش ایک ایسے وقت میں کی ہے جب کہ دوسری جانب ان کے شوہر اور سابق مرد آہن محمد حسنی مبارک کو اسپتال سے جیل منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ نیٹ" کے مطابق دینی جماعتوں نے مشاورت کونسل کے سوزان کی گرفتاری اور ان سے تفتیش کی تائید کی ہے۔ مذہبی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی اور سلفی مسلک کے پیروکاروں نے حکومت پز زور دیا ہے کہ ملک میں گڑ بڑ میں ملوث سوزان مبارک اور ان کے دیگر حامیوں کو کڑی سزائیں دی جانی چاہئیں۔



دینی جماعتوں کا ردعمل

مشاورتی کونسل کی جانب سے سوزان مبارک کی گرفتاری کی سفارش پر ملک کی ایک سخت گیر مذہبی جماعت جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے نائب چیئرمین انجینیئرعاصم عبدالماجد نے کہا کہ سوزان مبارک بدعنوانی کے کئی مقدمات میں پہلے بھی ماخوذ ہیں۔ ان کی گرفتاری کی سفارش پہلے بھی کی جا چکی ہے، لیکن انہیں چھوڑ دینا ایک بڑی غلطی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سابق خاتون اول ملک میں بدعنوانی کو فروغ دینے، سیاسی قوتوں کو طاقت کے ذریعے کچلنے اور جمال مبارک کوحسنی مبارک کا جانشین بنانے جیسے اقدامات میں براہ راست ملوث رہی ہیں۔ اب پورٹ سعید اسٹیڈیم میں پرتشدد واقعات کے ذمہ داروں میں سوزان مبارک کا نام لیا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی دیگر پرتشدد واقعاعات میں ملوث رہ چکی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عاصم عبدالماجد کا کہنا تھا کہ سابق مصری صدر کے مختلف حکومتی عہدوں پر تعینات عہدیدا رہم سے سابق صدر کے خلاف انقلاب کا بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ وہ مبینہ طور پر ملک میں فساد پربا کرنے اور بیرونی سازشیوں کے آلہ کارکے طور پر کام کرتے ہیں۔
ان کا عہدوں سے ہٹایا جانا اور ان کےخلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔

صدارتی انتخابات دستور سے قبل ناگزیر

مصری سلفی مسلک کی جماعت "النور" کے ترجمان محمد نور نے مطالبہ کیا کہ مشاورتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایاجائے۔ انہوںنے کہا کہ سابق صدرکی اہلیہ اور ان کے دیگر حامیوں کی گرفتاریوں کا معاملہ ایک حساس موضوع ہے۔ اس پر پوری قوم کا اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

مصری سلفیوں کی ایک دوسری جماعت "الاصالہ" کےسربراہ ڈاکٹر عبدالمقصود کا کہنا تھا کہ پورٹ سعید میں پھوٹنے والے خونریز واقعات کے بعد ملک میں سیاسی معاملات تبدیلی کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں نئے صدارتی انتخابات سے قبل نئے دستور کی تدوین عمل میں لائی جائے، لیکن پورٹ سعید جیسے واقعہ کے رونما ہونے کے بعد اب صدارتی انتخابات دستور کی تدوین سے قبل کرانے ضروری ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالمقصود نے بھی سوزان مبارک اور ان کے دیگر حامیوں پرالزام عائد کیا کہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کی برطرفی کا بدلہ چکانے کے لیے ملک میں بدامنی کے واقعات کو فروغ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک اور ان کے حامیوں کو قوم نے نفرت کی علامت بنا کر رکھا ہے۔ اب ان کا اعلیٰ عہدوں پر کام کرنےکا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔