ترکی کا شامی بحران کے حل کے لیے نئے منصوبہ پر غور

سلامتی کونسل میں قرارداد مسترد ہونے کے بعد

نشر في:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شامی حکومت کے مخالف ممالک کے ساتھ مل کر بحران کے حل کے لیے ایک نئے اقدام کی تیاری کر رہا ہے۔ انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق قرارداد کو ایک ناکامی قرار دیا ہے۔

ترک وزیر اعظم نے انقرہ میں منگل کو اپنی جماعت انصاف اور ترقی (اے کے) پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ان ممالک کے ساتھ مل کر ایک نئے منصوبے پر عمل درآمد کی کوشش کر رہے ہیں جو شامی حکومت نہیں،بلکہ عوام کے ساتھ ہیں''۔لیکن انھوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

انھوں نے کہا کہ ''شام کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جو کچھ ہوا ہے، وہ مہذب دنیا کے لیے ایک ناکامی ہے''۔ وہ چین اور روس کی جانب سے شام میں خونریزی روکنے سے متعلق قرارداد کو مسترد کیے جانے کا حوالہ دے رہے تھے۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد کی عدم منظوری سے ایک جابر حکمران کو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے لائسنس مل گیا ہے حالانکہ ویٹو اختیار کو ہلاکتوں کے لیے سبز جھنڈی دیے بغیر ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام کے معاملہ کو طاقت کے لیے جدوجہد کے گھاٹ پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''شام میں جوکچھ رونما ہورہا ہے،ہم اس سے منہ نہیں پھیر سکتے اور ہم شامی عوام کا ساتھ بھی نہیں چھوڑ سکتے''۔واضح رہے کہ ترکی ماضی میں شام کا قریبی اتحادی ملک رہا ہے اور ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوان شامی صدر بشارالاسد کے دوست سمجھے جاتے تھے لیکن اب شامی حکومت کی مخالفین کو دبانے کے لیے خونریز کارروائیوں کے بعد شامی صدر کے سخت ناقد بن چکے ہیں۔

عرب اور مغربی ممالک نے شام میں تشدد کے خاتمے سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرنے پر روس اور چین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے ان کی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ''اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پر رائے شماری کے حوالے سے بعض مغربی ممالک نے غیر شائستہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے جو کچھ کہا،اس کی سرحدیں پاگل پن (ہسٹریا) سے جا ملتی ہیں''۔

لاروف نے کہا کہ ''بعض ہسٹریائی بیانات کا مقصد دراصل برسرزمین جو کچھ رونما ہورہا ہے اور جو کچھ رونما ہوچکا ہے،اس کو دبانا ہے۔روسی وزیرخارجہ آج منگل کو دمشق پہنچے ہیں جہاں انھوں نے صدر بشارالاسد سے شام کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو بدھ کو امریکا روانہ ہونے والے ہیں جہاں وہ اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن سے شام کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔ ترک وزیرخارجہ ماضی میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک شام کے داخلی امور میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا لیکن اگر خطے کی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو وہ شام کا ساتھ نہیں دے گا۔

ادھر شام کے وسطی شہر حمص میں سرکاری سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان منگل کو جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں،ان کے درمیان مشین گنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور شامی فورسز نے مخالفین کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف علاقوں سے وقفے وقفے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔شامی حکومت نے حمص کے تمام علاقوں میں امن وامان کے قیام تک دہشت گردوں گروہوں کا پیچھا جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور عالمی برادری کی مذمت کے باوجود شامی فورسز نے مظاہرین کو ہلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے۔