علی عبد اللہ صالح انتخابات میں ووٹ ڈالنے وطن واپس آئیں گے: ذرائع
نائب صدر کی انتخابی مہم عروج پر
یمن کے سرکاری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکا میں زیرِ علاج صدر علی عبداللہ صالح وطن واپسی کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے رواں ماہ 21 تاریخ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں شرکت کرنے اور نائب صدر عبد ربہ منصور ھادی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی"سباء " کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے نیو یارک میں زیرعلاج صدر علی عبداللہ صالح نے وطن واپسی اور انتخابات میں شراکت کا اعلان حال ہی میں ایک وفد سے ملاقات میں کیا۔ صدر صالح نے بتایا کہ اب وہ رو بہ صحت ہیں اور جلد وطن واپسی کا سفر شروع کریں گے جہاں وہ اکیس فروری کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں حصہ لے سکیں گے۔
اُدھر دوسری جانب نائب صدراور اپوزیشن اور حکومت کے متفقہ صدارتی امیدوار عبد ربہ منصور الہادی نے منگل کے روز انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ ان کی انتخابی مہم اب پورے زور و شور کےساتھ جاری ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ"کے مطابق انتخابی مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبد ربہ منصور ہادی کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخابات ملک کے مستقبل کےحوالےسے اہم ترین قدم ہے۔ مہم کی افتتاحی تقریب میں انہوں نے صدر علی عبداللہ صالح کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی۔
عبد ربہ منصور ھادی کا کہنا تھا کہ "گوکہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے متفقہ امیدوار ہیں تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ عبوری مرحلے سے گذر رہے ہیں۔ البتہ ان کا بطور صدر انتخاب ملک کو بحران سے نکالنے اور عوامی امنگوں کو پورا کرنے کا مثالی حل ہے۔ وہ جو کچھ بھی کریں گے اپنی ذات، پارٹی اور قبیلے کے مفادات سے بالا تر ہو کر کریں گے"۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہم ایک مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ انتقال اقتدارکا یہ مشکل مرحلہ اسی صورت میں کامیابی سے طے ہوسکتا ہے اگر تمام قومی اور سیاسی دھارے صرف ملک وقوم کے مفاد میں سوچنے لگیں۔ نائب صدرنے نوجوان انقلابی کارکنوں کی مساعی کی تعریف کی اور کہا کہ انقلابیوں نے ایک نئے یمن کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ اب وہ نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کرملک کے مستقبل کی تعمیر، اس کے استحکام اور سلامتی و خودمختاری کو یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے ساتھ وفاداری اور حب الوطنی ہی ہمارے حقوق اور آزادیوں کی ضامن ہو سکتی ہے۔