ایران نے فرانس اور برطانیہ کو تیل کی فروخت بند کر دی

یورپی یونین کی پابندیوں کا ردعمل

نشر في:

ایران نے یورپی یونین کی جانب سے عاید کردہ حالیہ پابندیوں کے ردعمل میں فرانس اور برطانیہ کو تیل کی فروخت بند کر دی ہے۔

ایران کی تیل کی وزارت کے ترجمان علی رضا نیک زاد رہبر نے اتوار کو ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ''برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو خام تیل کی برآمد بند کر دی گئی ہے اور اب ہم اپنا تیل نئے صارفین کو فروخت کریں گے۔ہم نے برطانیہ اور فرانس کی جگہ دوسرے ممالک کو تیل کی فروخت کے لیے اقدامات کر لیے ہیں''۔

ایران کے اس فیصلے کے ان دونوں ممالک کی تیل کی درآمدات پر کوئی زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ فرانس نے گذشتہ سال اپنی کل کھپت کا صرف تین فی صد تیل ایران سے خرید کیا تھا اور اس کی مقدار اٹھاون ہزار بیرل یومیہ بنتی ہے جبکہ برطانیہ کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت ایران سے تیل درآمد نہیں کر رہا ہے۔

لیکن ایران کی جانب سے ان دونوں ممالک کو تیل کی فروخت کی بندش یورپی یونین کے رکن دوسرے ممالک کے لیے ایک انتباہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایرانی تیل کے بڑے خریدار ممالک اٹلی، اسپین اور یونان کو بھی برآمد بند کی جاسکتی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق اٹلی ایران سے اپنی کل کھپت کا تیرہ فی صد یعنی ایک لاکھ پچاسی ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کر رہا تھا جبکہ اسپین ایران سے اپنی ضروریات کا بارہ فی صد یعنی ایک لاکھ اکسٹھ ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کر رہا تھا اور یونان تیس فی صد تیل یعنی ایک لاکھ تین ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کر رہا تھا۔

امریکا اور یورپی یونین کے رکن ستائیس ممالک نے جنوری میں ایران پر نئی پابندیاں عاید کی تھیں۔ یورپی یونین کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں کے تحت ایران سے تیل کی درآمدات فوری طور پر بند کر دی گئی تھیں اور رکن ممالک کو یکم جولائی تک ایران سے خام تیل کی درآمد کے موجودہ سودوں پر عمل درآمد کی اجازت دے دی گئی تھی۔

امریکی اور یورپی یونین کی ان نئی پابندیوں کا مقصد ایران کو اس کے متنازعہ جوہری پروگرام سے دستبردار کرانا ہے۔ ان پابندیوں کے ایرانی معیشت پر تو ضرور منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں لیکن ایران اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کے بجائے اس کو مزید ترقی دے رہا ہے اور اس نے گذشتہ بدھ کو مزید تین ہزار سینٹری فیوجز کو فعال کرنے کی اطلاع دی تھی۔

واضح رہے کہ ایران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں سعودی عرب کے بعد تیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ وہ روزانہ پینتیس لاکھ بیرل تیل نکالتا ہے جس میں سے پچیس لاکھ بیرل برآمد کرتا ہے۔ایران کے وزیر تیل اور ارکان پارلیمان نے جنوری میں کہا تھا کہ بعض مغربی ممالک کو یورپی تنظیم کی جانب سے عاید کردہ پابندیوں کے مکمل نفاذ سے قبل ہی تیل کی برآمد بند کر دی جائے گی۔