جوڈو کے یمنی کھلاڑی کا اسرائیلی مدمقابل سے پنجہ آزمائی سے انکار
جرمنی میں اپنے پہلے بین الاقوامی مقابلے میں
یمنی جووڈ ٹیم کے کھلاڑی علی خصروف نے جرمنی کے شہر ڈوسلڈورف میں جوڈو کے ورلڈ کپ مقابلوں میں اسرائیلی مدمقابل کے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ ورلڈ کپ لندن میں ہونے والے اولمپیکس کے لئے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ شمار کیا جاتا ہے۔
علی خصروف کو 60 کلو گرام وزن کی کیٹگری کے مقابلوں میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں اسرائیلی کھلاڑی سے داؤ پیچ آزمانے تھے لیکن انہوں نے دینی اور قومی جذبے کے پیش نظر اسرائیلی کھلاڑی سے زور آزمائی سے انکار کر دیا ہے۔
یمنی جوڈو ایسوسی ایشن کے صدر نعمان شاہر نے علی خصروف کے فیصلے کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یمنی کھلاڑی اس کوالیفائنگ میچ میں عدم شرکت کے باعث نہ ملنے والے پوائنٹس کی کمی کو چیک جمہوریہ کے صدر مقام پراگ میں 25 فروری کو ہونے والے ورلڈ کپ میں شرکت کے ذریعے پورا کریں گے۔
مسٹر شاہر نے خدشہ ظاہر کیا کہ یمنی کھلاڑی کے اسرائیلی مدمقابل سے میچ کھیلنے سے انکار پر انہیں بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم مخصروف نے فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کر کے ثابت کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کھیل کے میدان میں بھی تعلقات معمول پر نہیں لانا چاہتے تاوقتیکہ تل ابیب نہتے فلسطینیوں کے خلاف اپنے مظالم کا سلسلہ بند نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ یمنی کھلاڑی نے سرکاری عمال کی جانب سے خاطر خواہ سرپرستی نہ ملنے کے باوجود قطری میں گذشتہ برس دسمبر ہونے والے 12 عرب کھیلوں میں جوڈو کیٹگری میں سونے کا تمغمہ جیتا تھا۔