مغربی ممالک شام میں خانہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں:چین
دمشق:سکیورٹی فورسزکا حکومت مخالفین پر کریک ڈاؤن
چین کے ایک کثیرالاشاعت سرکاری روزنامے کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک شامی حزب اختلاف کی بھرپور حمایت کرکے اس ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ اخبار نے صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبہ کو مسترد کردیا ہے اوراس کو تشدد کو مہمیز دینے کی ایک کوشش قراردیا ہے جبکہ برطانوی وزیرخارجہ نے شام میں خانہ جنگی پر خبردار کیا ہے۔
چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ''پیپلز ڈیلی'' نے اپنے اوورسیز ایڈیشن کے صفحہ اول پر لکھا ہے کہ ''چین کو شام میں فوجی مداخلت کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی مخالفت جاری رکھنی چاہیے''۔ واضح رہے کہ چین کے سرکاری میڈیا نے حالیہ دنوں میں شام سے متعلق متعدد تبصرے شائع کیے ہیں جن میں مسلح غیرملکی مداخلت پر خبردار کیا گیا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ اس کو اب بھی اس بات کا یقین ہے کہ شام کے بحران کا پُرامن حل تلاش کیا جاسکتا ہے جبکہ برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ شام خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ نے اتوار کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم لیبیا کی طرح شام میں مداخلت نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ہم دوسرے بہت سے اقدامات کررہے ہیں''۔
پیپلزڈیلی کے خارجہ امور کے ماہر چو ژنگ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے کہ ''اگر مغربی ممالک شامی حزب اختلاف کی مکمل حمایت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوجائے گی اور پھر مسلح غیرملکی مداخلت سے بچنے کا کوئی امکان نہیں رہے گا''۔
چو نے مزید لکھا ہے کہ ''اگراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل عرب لیگ کی جانب سے شامی بحران کے حل کے لیے قرارداد کی منظوری دے دیتی ہے جس میں صدربشارالاسد سے اقتدار نائب صدر کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تو اس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات میں اور اضافہ ہوگااور پھر بشارالاسد کے حامیوں اور ان کے مخالفین میں جھڑپوں میں اور بھی شدت آئے گی''۔
اس دوران العربیہ ٹی وی نے مقامی کارکنان کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ شام میں اتوار کو تشدد کے واقعات میں ایک جج اور ایک ڈاکٹر سمیت ستائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس اورسکیورٹی فورسز نے دارالحکومت دمشق کے علاقے المزہ میں بشارالاسد کے مخالفین کو احتجاجی ریلی نکالنے سے روک دیا۔اس علاقے میں ہفتے کے روز پندرہ ہزار کے لگ بھگ افراد نے نماز جنازہ کے جلوس میں شرکت کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔یہ دارالحکومت میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ گیارہ ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔
شام میں یہ مظاہرے اور ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب چین کے نائب وزیرخارجہ ژائی جون دمشق میں تھے۔انھوں نے شامی صدر سے ملاقات کے بعد ملک کے تمام فریقوں پر زوردیا کہ وہ تشدد کا خاتمہ کریں۔ژو نے چین کی جانب سے صدر اسد کے چارماہ میں ریفرینڈم اور کثیر جماعتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق منصوبے کی حمایت کا اظہار کیا۔یادرہے کہ شامی حزب اختلاف اس منصوبے کو مسترد کرچکی ہے اور صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کررہی ہے۔
ادھر واشنگٹن میں امریکا کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈمپسی نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں مداخلت بہت ہی مشکل ہوگی کیونکہ یہ دوسرا لیبیا نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی فوج جدید فضائی دفاعی نظام اور کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں سے لیس ہے اور وہ بڑی صلاحیت کی حامل ہے۔انھوں نے شام کی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کے اقدام کو بھی قبل از وقت قراردیا ہے۔