پاکستان: امریکا کے ساتھ تعلقات سے متعلق نئی سفارشات کی منظوری

علاقائی حدودو میں دراندازی اور ڈرون حملے فوری بند کرنے کا مطالبہ

نشر في:


پاکستان کی پارلیمان نے امریکا کے ساتھ تعلقات کار کے لیے نئے قواعد وضوابط اور رہ نما اصولوں کی منظوری دے دی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے چیئر مین رضا ربانی نے امریکا کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کے حوالے سے سفارشات پیش کیں جن کی پارلیمان نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے منظوری دی ہے۔

سینیٹر رضا ربانی نے ان سفارشات کو پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ان میں ملکی سلامتی اورخود مختاری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات دونوں ممالک کی خود مختاری ،آزادی اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مبنی ہونے چاہئیں۔

چودہ نکاتی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امریکا کی موجودگی پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پاکستان کے اندر فوری طور پر ڈرون حملے بند کیے جائیں اور پاکستانی علاقے میں ''گرم تعاقب'' سمیت ہر طرح کی دراندازی کا بھی خاتمہ کیا جائے۔پاکستانی علاقے کو افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کو اسلحہ اور گولہ بارود کی نقل وحمل کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

لیکن ان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود نیٹو فورسز کے لیے سپلائی روٹ کو بحال کردیا جائے البتہ اب امریکی اور نیٹو فورسز سے ان کے لیے سامان رسد کی فراہمی اور نقل وحمل پر بھاری فیس وصول کی جائے۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ امریکا سلالہ چیک پوسٹ پر گذشتہ سال نومبر میں حملے پر معافی مانگے، آیندہ ایسے واقعہ کا اعادہ نہ ہونے کی یقین دہانی کرائے اور ڈرون حملے بند کرے۔ سفارشات کے مطابق پاکستانی سرزمین پر امریکی فوجیوں ، نجی سیکیورٹی کنٹریکٹرز اور ایجنٹس کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی۔پاکستان کی خودمختاری پرسمجھوتا نہیں کیاجائے گا اور امریکا سے تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہونے چاہئیں۔

آزاد خارجہ پالیسی کے اصولوں کو سختی کے ساتھ لاگو کیا جانا چاہیے،امریکا کی پاکستان میں موجودگی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔کسی بھی بہانے پاکستان کی علاقائی حدود میں دراندازی یا جارحیت نہ کی جائے ، پاکستان کی فضائی یا زمینی حدود افغانستان میں اسلحہ اور بارود کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔

سفارشات کے مطابق پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اثاثوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ امریکا اور دیگر ممالک بھارت کی طرز پر پاکستان کے ساتھ بھی سول نیو کلیئر معاہدہ کریں ،میزائل پروگرام سے متعلق پاکستان کے موقف پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے۔

سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ قابل مذمت ، عالمی قوانین اور پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے ،حکومت پاکستان امریکا سے نیٹو کی جارحیت پر غیر مشروط معافی طلب کرے ،سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ،پاکستان کو یقین دہانی کرائی جائے کہ آیندہ ایسے حملے نہیں کیے جائیں گے۔

وزارت دفاع اور پاک فضائیہ سے کہا گیا ہے کہ سرحدوں کے ساتھ ملحق علاقوں کے لیے نئے فضائی قواعد وضوابط مرتب کریں۔کسی بھی غیر ملکی حکومت یا اتھارٹی کے ساتھ ملکی سلامتی سے متعلق کوئی زبانی معاہدہ نہیں کیا جائے گا ، پہلے سے موجود ایسے تمام معاہدے یا سمجھوتے فوری طور پر منسوخ کیے جائیں۔ پاکستان میں کسی بھی قسم کے آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی ،فوجی آپریشن اور لاجسٹک سے متعلق کوئی بھی معاہدہ وزارت خارجہ یا متعلقہ وزارتوں میں جائزے کے لیے پیش کیا جائے۔

مستقبل میں تمام معاہدوں کی وزارت قانون و انصاف اور پارلیمانی امور سے منظوری لی جائے، یہ تمام معاہدے قومی سلامتی کمیٹی میں پیش کیے جائیں گے،کمیٹی ان کی منظوری دے گی اور اپنی سفارشات کے ساتھ وفاقی کابینہ میں پیش کرے گی،متعلقہ وزیر معاہدے سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں پالیسی بیان دے گا۔

سفارشات میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے جانی اور اقتصادی نقصانات کا اعتراف کرنا چاہیے۔پاکستان کی برآمدات کو امریکا اور نیٹو ممالک میں زیادہ سے زیادہ مارکیٹ رسائی دینی چاہیے۔ کوئی پرائیویٹ سیکورٹی کنٹریکٹر اور انٹیلی جنس آپریٹو کو پاکستان میں کام کی اجازت نہیں ہو گی ،پاکستان کی حدود غیر ملکی فوجی اڈوں کے قیام کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔

افغانستان میں جاری جنگ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کی جائے ، جس میں مقامی رسم و رواج ، اقدار اور مذہبی عقائد کا احترام کیا جائے۔پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک پر حملے کے لیے استعمال نہیں کی جائے گی ،اگر غیر ملکی جنگجو پاکستان میں موجود ہیں تو انہیں نکال دیا جائے،پاکستان بھی توقع رکھتا ہے کہ دوسرے ممالک کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔

حکومت عوامی امنگوں کے مطابق خارجہ پالیسی کے اہم نکات کا جائزہ لے ،نئی خارجہ پالیسی کو اپنے روایتی اتحادیوں سے روابط اور نئے تعلقات کے ساتھ متوازن کیا جائے۔ یہ پالیسی خطے میں امن کے قیام پر گامزن رہنی چاہیے۔بھارت کے ساتھ مذاکرات باہمی احترام پر مبنی ، نتیجہ خیز اور بامقصد ہونے چاہئیں ،جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے بھی کوششیں کی جانی چاہئیں۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات کے قیام کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں،چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ کوہر شعبے میں مزید مضبوط بنانا چاہیے۔ یورپی یونین اور روسی فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنانا چاہیے،افغانستان میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رہے گی ،اسلامی دنیا کے ساتھ پاکستان کے خصوصی تعلقات کو بھی اہمیت دینی چاہیے ،پاکستان کو ایران ، ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبوں پر فعال طریقے سے عمل درآمد کرنا چاہیے۔

حکومت پاکستان اب ان سفارشات کی روشنی میں نئی خارجہ پالیسی مرتب کرے گی اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ ان سفارشات پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کی نظرثانی شدہ سفارشات پر اپوزیشن کے مطالبے پر نیٹو سے متعلق تمام شقیں نکال دی گئی ہیں۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں چودھری نثار علی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ سفارشات میں شامل کرنا چاہتے تھے، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ انتظامی معاملہ ہے اور حکومت امریکا کے ساتھ اس کو اٹھائے گی۔

انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات تاریخی تب ہوں گی جب ان پرمکمل عمل درآمد ہو گا، پہلے بھی قراردادیں منظور ہوئیں،لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ اب بھی صرف وزیراعظم کی یقین دہانی کافی نہیں کیونکہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اس قرارداد کا حال پہلی قراردادوں جیسا نہیں ہو گا۔