مصر کے سلفی رہنما ابو اسماعیل کی والدہ کی امریکی شہریت ثابت ہو گئی

امریکی وزارت خارجہ کی مصدقہ دستاویزات سے

نشر في:

مصر کے ہائر الیکشن کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ سلفی صدارتی امیدوار حازم ابو اسماعیل کے کاغذات نامزدگی ان کی والدہ کی امریکی شہریت کے ٹھوس ثبوت ملنے کے بعد مسترد کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن میں پیش کردہ اہم دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ویزہ سیکشن اور غیر ملکی شہریت کے امور کی جانب سے فراہم کردہ مصدقہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ حازم ابو اسماعیل کو محض قیاس ارائیوں کی بنیاد پر صدارتی انتخابات سے خارج نہیں کیا گیا بلکہ ان کی والدہ کی امریکی شہریت کی مکمل جانچ پڑتال اور ان کی امریکی شہریت کے مکمل ثبوت ملنے کے بعد کیا گیا ہے۔

کمیشن کو ملنے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسز نوال عبد العزیز کا امریکی پاسپورٹ نمبر 500611598 پر مصر اور دوسرے ملکوں سفر ہوتا رہا ہے۔ پاسپورٹ کےساتھ دیگر مصدقہ تمام دستاویزات کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ویزہ سیکشن کی جانب سے نوال کے امریکی شہری ہونے کے مزید ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ ان میں نوال کی تاریخ پیدائش تین نومبر 1946ء بتائی گئی ہے یہی تاریخ پیدائش ان کے مصری پاسپورٹ پر بھی درج ہے، جس کے بعد تمام شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے امریکی پاسپورٹ کے ذریعے چار جولائی 2008ء کو مصر کا سفر کیا۔ اس کے بعد وہ اسی پاسپورٹ پر چھے نومبر 2008ء کو جرمنی کے سفر پر روانہ ہو گئی تھیں اور جرمنی سے ان کی واپسی 16 اگست 2009ء کو ہوئی۔ اس دوران ان کے پاس مصر ہی کا پاسپورٹ تھا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے پاس امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے تحریری تصدیق نامہ بھی موجود ہے۔ دستاویزات کے مطابق پچیس اکتوبر سنہ 2006ء کو مسز نوال نور نے دہری شہریت سے فائدہ اٹھایا۔ ان دستاویزات پر امریکی وزارت خارجہ و ایمیگریشن کی باضابطہ مُہر اور متعلقہ حکام کے دستخط بھی ثبت ہیں۔

الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے امریکا سے مسز نوال کے بارے میں جو معلومات اور دستاویزات حاصل کی ہیں وہ مکمل قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے امریکا میں مصری سفارت خانے کو آگاہ گیا۔ مصری سفارت خانے کی درخواست پر گیارہ اپریل کو یہ دستاویزات سفارت خانے کو ارسال کی گئی اور اگلے روز بارہ اپریل کو یہ تمام کاغذات مصری وزارت خارجہ اور پھر وہاں سے الیکشن کمیشن کو بھجوا دی گئی تھیں۔

الیکشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے فراہم کردہ مصدقہ دستاویزات کے بعد انہوں نے حازم ابو اسماعیل کو صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ خیال رہے کہ حازم ابو اسماعیل نے تیس مارچ کو صدارتی انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ جس کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں ان کی والدہ کی امریکی شہریت کا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔