.
.
.
.

فوج،عام شہریوں کو گرفتار کر سکے گی: مصری وزیر قانون

اقدام، ایمرجنسی کی بالواسطہ بحالی ہے: عوامی حلقے

نشر في:

مصری وزیر قانون عادل عبدالحمید نے ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس کو نئے دستور کی تشکیل تک سویلین کو گرفتار کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے رن آن مرحلے سے تین دن پہلے اس فیصلے کو ملک میں دو ہفتے قبل ختم کی جانے والی ہنگامی حالت کی بالواسطہ بحالی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

سویلین شہریوں کو فوجداری مقدمات یا حکومت کی سلامتی کو اندرون یا بیرون ملک سے نقصان پہنچانے والے افراد کی گرفتاری کا اختیار ہو گا۔ نیز حکومتی احکام کی خلاف ورزی، ریاست کے خلاف مزاحمت، اسے سب و شتم، مواصلات کا پہیہ روکنا اور عوام کو خوفزدہ کرنا، توڑ پھوڑ اور اجرتی قاتلوں کو بھی ملٹری پولیس گرفتار کر سکے گی۔

قانونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر قانون کا فیصلہ کا مقصد مسلح فوج کو پولیس کے اختیار دینا ہے تا وقتیکہ ملک کا نیا دستور قائم کیا جا سکے اور اس کی عوامی ریفرینڈم کے ذریعے توثیق ہو۔

فوج کے جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ جنرل عادل مرسیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزارت قانون کے حالیہ فیصلے سے ملک میں موجود اس قانونی خلا کو پر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو مصر میں رائج تیس سالہ ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد بھی فوج کے سڑکوں پر موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

ایمرجنسی کے خاتمے کے بعد سڑکوں پر موجود فوج سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی سرکوبی کا اختیار واپس لے گیا تھا، جس کے بعد ایک قانونی خلا پیدا ہو گیا تھا، وزیر قانون کے فیصلے سے انہیں امن و امان برقرار رکھنے کا اختیار دیا ہے۔