.
.
.
.

مصر:عوامی اسمبلی آئینی عدالت کے حکم کے بعد برخاست؟

ملک میں نئے پارلیمانی انتخابات کرانا پڑیں گے:فاروق سلطان

نشر في:

مصر کی آئینی عدالت نے اپنے حکم میں اسلام پسندوں کی بالادستی والی تمام پارلیمان کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمانی انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے تھے۔اس کی وجہ سے تمام پارلیمان کی ہئیت ترکیبی ہی غیر قانونی ہے۔

عدالت کے ایک جج ماہر سامی یوسف نے ایک غیر ملکی خبررساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔اس فیصلے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب پوری پارلیمان ہی ازخود برخاست ہوگئی ہے اور اس کے نئے سرے سے انتخابات کرانا پڑیں گے۔

آئینی عدالت کے اس فیصلے کے فوری بعد حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل کے ارکان کا اجلاس طلب کرلیا گیا جو نئی پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کررہے تھے۔حکمران فوجی کونسل نے فوری طور پر فیصلے کے حوالے سے اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا لیکن ایک فوجی ذریعے کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد فوج کو قانون سازی کے اختیارات بھی حاصل ہوگئے ہیں۔

درایں اثناء مصر کی اعلیٰ آئینی عدالت کے سربراہ فاروق سلطان کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے ایوان زیریں عوامی اسمبلی کے ایک تہائی ارکان کی رکنیت کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تمام اسمبلی تہلیل ہوجائے گی اور ملک میں نئے پارلیمانی انتخابات کرانا پڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ جس قانون کے تحت پارلیمانی انتخابات کرائے گئے تھے،اس کے قواعد وضوابط آئین کے منافی ہیں، اس لیے اب پارلیمان کے ایوان زیریں کو مکمل طور پر تہلیل کرنا پڑے گا۔

آئینی عدالت کے سربراہ نے کہا کہ ان کے حکم نامے کو تسلیم کرنا تمام ریاستی اداروں کی ذمے داری ہے۔اب یہ انتظامہ پر منحصر ہے کہ وہ نئے انتخابات کرانے کا اعلان کرتی ہے یا نہیں۔

چندے قبل مصر کی سپریم آئینی عدالت نے سیاسی تنہائی کے قانون کو غیر آئینی قراردینے کے علاوہ پارلیمانی انتخابات کے بعض قواعد وضوابط کو بھی غیرآئینی قرار دے دیا تھا جس کے بعد عوامی اسمبلی کے ایک تہائی ارکان اپنی نشستوں سے محروم ہوگئے ہیں۔مصر کے قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کی جانب سے پارلیمان کی ایک تہائی نشستوں پر انتخاب کو کالعدم قراردینے کے بعد پوری پارلیمان کو تہلیل کیا جاسکتا ہے یا پھرصرف متاثرہ نشستوں پر دوبارہ انتخابات کرانا پڑیں گے۔

واضح رہے کہ مصر کے پارلیمانی انتخابات کے لیے وضع کردہ قواعد وضوابط کے تحت عوامی اسمبلی کی ایک تہائی نشستیں آزاد امیدواروں اور دو تہائی سیاسی جماعتوں کے لیے مختص کی گئی تھیں لیکن آزاد امیدواروں کے لیے مختص نشستوں پر بھی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کو نامزد کردیا گیا تھا اور اسی بنیاد پر ان کا انتخاب کیا گیا تھا جس کے خلاف ملک کی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی اور اب اس نے ان نشستوں پر انتخاب کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یادرہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف گذشتہ سال برپا شدہ عوامی انقلاب کے بعد تین مراحل میں منعقدہ عام انتخابات کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی میں اسلامی جماعتوں نے برتری حاصل کی تھی اور ملک کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ آزادی اور انصاف پارٹی ( ایف جے پی) کے حصے میں قومی اسمبلی کی 47 فی صد نشستیں آئی تھیں۔ سخت گیرسلفی تحریک کی جماعت حزب النور نے 113 نشستیں حاصل کی تھیں۔ایف جے پی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد سعد الکتاتنی کو عوامی اسمبلی کا اسپیکرمنتخب کیا گیا تھا۔ناقدین کے بہ قول یہ اسمبلی انقلاب نواز کارکنان کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔