.
.
.
.

پارلیمان سے متعلق آئینی عدالت کا فیصلہ تاریخی ہے:احمد شفیق

سپریم آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل

نشر في:

مصر کے صدارتی امیدوار احمد شفیق نے خود کو انتخاب لڑنے کی اجازت دینے اور پارلیمانی انتخابات کے ایک تہائی ارکان کی رکنیت منسوخ قرار دینے سے متعلق آئینی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دے دیا ہے۔

احمدشفیق آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد قاہرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ''سیاسی نمبر بنانے کا کھیل لد چکا ہے۔آئینی عدالت نے میرے انتخاب میں حصہ لینے کے حق کی تصدیق کردی ہے اورصدارتی انتخابات کے جائز ہونے پر بھی مہر تصدیق ثبت کردی ہے''۔

سپریم آئینی عدالت کے نئے فیصلے کے بعد مصر کے سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچ گئی ہے اور اس سے حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل کا وضع کردہ پورا نظام ہی تہ وبالا ہونے کو ہے۔احمد شفیق اور ان کے ہم نوا سابق حکومت کے حامیوں نے آئینی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہےلیکن انقلاب نوازتحریکوں اور ملک کی سب سے بڑی اور منظم جماعت اخوان المسلمون نے اس کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔اخوان کے ایک لیڈراعصام العریان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک تاریک دور کی جانب لوٹ جائے گا۔

مصر کی اعلیٰ آئینی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ صدارتی انتخابات کے حتمی مرحلے کے لیے پولنگ سے صرف دوروز قبل سامنے آیا ہے۔ان میں احمد شفیق اور ان کے مدمقابل اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

صدارتی انتخابات کے حتمی مرحلے میں سابق وزیراعظم احمد شفیق کو سابق حکمران اب کالعدم جماعت اورارباب اقتدار کے حامیوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ انقلاب نوازتحریکیں محمد مرسی کی حمایت کررہی ہیں۔تاہم بعض لبرل گروپ دونوں امیدواروں میں سے کسی کے بھی حامی نہیں اور وہ اپنے پیروکاروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کریں اور پولنگ کا بائیکاٹ کریں۔