.
.
.
.

مصر میں صدارتی انتخاب کے دوسرے اور آخری دن ووٹنگ مکمل

ڈاکٹر مرسی، مبارک دور کے وزیر اعظم کے مد مقابل ہیں

نشر في:

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علاحدگی کے بعد منعقد ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کے آخری دن ووٹنگ کا سلسلہ اتوار کے روز مکمل ہو گیا۔ اس انتخاب میں اسلام پسند امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کا مقابلہ مبارک دور کے وزیراعظم احمد شفیق سے ہے۔

العربیہ نامہ نگاروں کے مطابق صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں وہ عوامی جوش و خروش دیکھنے کو نہیں ملا ہے جس کا مظاہرہ پہلے مرحلے کے دوران دیکھا گیا تھا۔

ووٹنگ کے پہلے دن کی طرح اتوار کو بھی پولنگ مراکز پر نوجوان طبقہ موجود نہیں تھا۔ مصر میں پانچ کروڑ بیس لاکھ افراد اس الیکشن میں ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

ملک کے سرکاری ٹی وی کی جانب سے تو عوام سے ووٹنگ میں حصہ لینے کی اپیل کی جا رہی ہے لیکن قاہرہ میں ٹرین سٹیشنوں پر اس الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کے مطالبے پر مشتمل پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔

یہ الیکشن ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ملک کی حکمران فوجی کونسل نے ہفتے کو مصری پارلیمان کو تحلیل کر دیا ہے۔ کونسل نے یہ قدم اعلٰی ترین آئینی عدالت کے اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اٹھایا جس میں سنہ 2011 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

اسلامی جماعت اخوان المسلمون نے پارلیمان کی تحلیل کے فیصلے کو غیر قانونی اور جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے انقلاب کا تحفظ کریں۔ ان پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلمین کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی نے ایوان میں تقریباً پچاس فیصد نشستیں حاصل کی تھیں۔

فوجی کونسل کے اس فیصلے سے ان خدشات کو بھی ہوا ملی ہے کہ کونسل طاقت کا مرکز بننا چاہتی ہے اور ان جمہوری تبدیلیوں کے خلاف ہے جن کا مطالبہ گزشتہ برس عوامی مظاہروں کے دوران کیا گیا تھا۔

تاہم مصر کی حکمران فوجی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ وہ صدراتی انتخاب جیتنے والے امیدوار کو تیس جون تک اقتدار منتقل کر دے گی۔

نامہ نگاروں کے مطابق پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مقصد غالباً مقصد یہ ہے کہ نئے صدر، پارلیمان اور ایک مستقل آئین کی غیر موجودگی میں آسانی سے اقتدار سنبھالیں تاکہ ان فرائض اور اختیارات پہلے سے طے نہ ہوں۔

مصر میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح چھیالیس فیصد رہی تھی اور محمد مرسی نے چوبیس اعشاریہ آٹھ جبکہ احمد شفیق نے تیئیس اعشاریہ سات فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔