.
.
.
.

مصر: عبوری آئین کے خلاف قاہرہ اور دوسرے شہروں میں مظاہرے

اخوان کا فوجی کونسل کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے احتجاج

نشر في:

مصر میں اخوان المسلمون نے مسلح افواج کی سپریم کونسل کی جانب سے اعلان کردہ ملک کے عبوری آئین کے خلاف مہم تیز کر دی ہے اور اس کے کارکنان نے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں منگل کو احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

اخوان المسلمون کے کارکنان گذشتہ ہفتے اعلیٰ آئینی عدالت کے فیصلے کے تحت پارلیمان کی تحلیل کے خلاف بھی احتجاج کررہے ہیں۔قاہرہ میں احتجاجی مظاہرے کے دوران اخوان کے ارکان پارلیمان نے پارلیمینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ قاہرہ میں مظاہرے میں انقلاب نواز تحریکوں نے بھی حصہ لیا ہے۔

اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کو اقتدار کی سول حکومت کو منتقلی سے صرف دوہفتے قبل پارلیمان کو برطرف کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔

مصر کی حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل میں شامل جرنیلوں نے نئے عبوری آئین کے تحت آیندہ صدر کے اختیارات کم کردیے ہیں اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یکم جولائی کو اختیارات کی نئے صدر کو منتقلی کے باوجود اصل اقتدار اپنے پاس ہی رکھیں گے۔

اخوان المسلمون نے اپنے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کی باون فی صد ووٹوں کے ساتھ کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ان کے مدمقابل صدارتی امیدوار اور حسنی مبارک کے آخری وزیر اعظم احمد شفیق کی مہم نے بھی ان کی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ احمد شفیق کو اپنے مدمقابل امیدوار پر برتری حاصل ہے مگر اخوان کے بہ قول صدارتی انتخاب کے حتمی مرحلے میں احمد شفیق نے اڑتالیس فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔البتہ الیکشن کمیشن نے ابھی صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا اور وہ جمعرات کو صدارتی انتخاب کے حتمی نتائج جاری کرے گا۔

فوجی کونسل نے آیندہ صدارتی کے اختیارات کم کرنے کے علاوہ بجٹ کی تیاری کا کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور وہ مصر کے نئے آئین کے مسودے کی تیاری کے لیے سو ارکان پر مشتمل پینل کو منتخب کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔ فوجی کونسل کے اس اقدام کے بعد بعض تجزیہ کاروں نے مصر میں بھی اسلام پسندوں اور فوج کے درمیان محاذ آرائی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔