.
.
.
.

مصری ججز یونین: ڈاکٹر مرسی صدارتی انتخابات میں فاتح ٹھہرے

انتخابی عذر داریوں سے اخوان کے امیدوار کی جیت پر فرق نہیں پڑے گا

نشر في:

مصری ججوں کی یونین نے اخوان المسلمون کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی کو فاتح قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے صدارتی انتخابات میں کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے قریباً ایک کروڑ بتیس لاکھ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدمقابل سابق وزیر اعظم احمد شفیق کے حق میں ایک کروڑ تئیس لاکھ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

اصلاح پسند ججوں پر مشتمل یونین نے آزادانہ طور پر مصر میں صدارتی انتخابات کی نگرانی کی ہے۔ان کے اعلان کردہ ووٹوں کے اعداد وشمار اور ڈاکٹر مرسی کے اعلان کردہ اعدادوشمار میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر مرسی کے حریف صدارتی امیدوار احمد شفیق نے بھی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کی انتخابی مہم کے نگرانوں نے اخوان المسلمون پر جعلی اعدادوشمار جاری کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جب صدارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی نتائج کا اعلان کیا جائے گا تو انھیں ہی فاتح قرار دیا جائے گا۔

لیکن مصری ججوں کی یونین کے سابق سربراہ زکریا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ دونوں صدارتی امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔اس لیے اگر کوئی انتخابی عذر داری دائر کی جاتی ہے تو اس سے ڈاکٹر محمد مرسی کی جیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہی فاتح رہیں گے۔

قبل ازیں منگل کو اعلیٰ صدارتی الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اس نے ابھی ووٹوں کی گنتی اور انتخابی نتائج مرتب کرنے کا کام مکمل نہیں کیا اور نہ بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف دائر کردہ درخواستوں کا جائزہ لیا ہے۔

اعلیٰ صدارتی الیکشن کمیشن انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان جمعرات کو کررہا ہے۔مصر کا نیا صدر کون منتخب ہوتا ہے،اس سے قطع نظراس کو اپنے پیش رو حسنی مبارک جیسے مطلق العنان اختیارات حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ مسلح افواج کی سپریم کونسل نے گذشتہ اتوار کو جاری کردہ عبوری آئینی حکم نامے کے تحت بہت سے اختیارات صدر سے واپس لے لیے ہیں۔

فوجی کونسل نے ملک کے نئے صدر کے اختیارات کم کرنے کے علاوہ بجٹ کی تیاری کا کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور پارلیمان کی تحلیل کے بعد وہ مصر کے نئے آئین کے مسودے کی تیاری کے لیے سو ارکان پر مشتمل پینل کو منتخب کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔ فوجی کونسل کے اس اقدام کے بعد بعض تجزیہ کاروں نے مصر میں بھی اسلام پسندوں اور فوج کے درمیان محاذ آرائی کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

فوجی کونسل کے جاری کردہ عبوری آئین کے خلاف منگل کی رات دارالحکومت قاہرہ میں پندرہ ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کو اقتدار کی سول حکومت کو منتقلی سے صرف دوہفتے قبل پارلیمان کو برطرف کرنے اور اس طرح صدر کے اختیارات سلب کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔